مہنگائی بڑھے گی، پاکستان میں عوامی احتجاج کا خطرہ ہے، آئی ایم ایف
اسلام آباد(آان لائن) آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور خوراک مہنگی ہونے کی وجہ سے پاکستان میں معاشی عدم استحکام کا خدشہ ہے، آئندہ سال مہنگائی کی شرح برقرار رہنے سے ملک میں مظاہرے بھی ہوسکتے ہیں۔آئی ایم ایف نے پاکستان سے متعلق کنٹری رپورٹ جاری کردی جس میں آئی ایم ایف نے خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے کو مہنگائی بڑھنے کی اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 20 فیصد رہنے کی توقع ہے، مالی سال 2022ء میں پاکستان کی معاشی سرگرمیاں مضبوط رہیں، فیول سبسڈی کا خاتمہ، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، خوراک، ایندھن کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔کنٹری رپورٹ میں بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے، زرمبادلہ زخائر، پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے گئے، علاوہ ازیں سات اسٹرکچرل اہداف پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں مالی سال 2022ء کے دوران معاشی سرگرمیاں مضبوط رہیں، حکومت نے قرض پروگرام کو ٹریک پر لانے کے لیے کئی اقدامات کیے، بنیادی سرپلس پر مبنی بجٹ، شرح سود میں نمایاں اضافہ شامل ہیں، فیول سبسڈی کا خاتمہ، ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، خوراک، ایندھن کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالیاتی شعبے کے استحکام کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ ایکس چینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیا جب کہ سماجی تحفظ اور توانائی شعبے کو مضبوط بنانے اور ٹیکس ریونیو اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔پورٹ میں بتایا گیا کہ قرض پروگرام کی مدت میں جون 2023ء تک توسیع کر دی گئی ہے، اس سے ضروری بیرونی فنانسنگ کے حصول میں مدد ملے گی، پالیسی اصلاحات کے باوجود قرض پروگرام کو غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے، گزشتہ سال کشیدہ سیاسی ماحول کے دوران کئی وعدوں اور اہداف پر عمل نہیں کیا گیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بیرونی پوزیشن غیر مستحکم اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوا، زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے گئے علاوہ ازیں سات اسٹرکچرل اہداف پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے کئی وعدوں اور اہداف پر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر اور پرائمری بجٹ خسارے سمیت 5 اہداف پورے نہیں کیے،3 کارکردگی اور7 اسٹرکچرل شرائط بھی پوری نہیں کیں۔آئی ایم ایف نے پاکستان کنٹری رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے قرض پروگرام میں طے کیے گئے اہداف اور وعدوں سے انحراف کیا جس سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے وعدہ خلافی کرکے پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں کمی کی، جب کہ ٹیکس چھوٹ دینے سے مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوا اور زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر گرنے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھ گئی۔علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے حکومت کی طرف سے دستخط شدہ لیٹرآف انٹینٹ جاری کردیا، جس میں حکومت نے آئی ایم ایف کو سترہ مختلف اقدامات کے ذریعے ٹیکس ریونیوبڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کا دستخط شدہ لیٹرآف انٹینٹ بھی جاری کردیا گیا ہے، جس میں موجودہ پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کو17 مختلف اقدامات کے ذریعے ٹیکس ریونیو بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دستاویز کے مطابق حکومت کے ان اقدامات سے 608 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع ہوگا، اور اگر کم ریونیو جمع ہوا تو پٹرولیم پر 17 فیصد جی ایس ٹی لگا کرکمی پوری کی جائیگی۔ رپورٹ کے مطابق سگریٹس پر 2 مرحلوں میں اضافی ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے 170 ارب حاصل ہوں گے، اور سگریٹس پر فی اسٹک 2 روپے اضافی ٹیکس لیا جائے گا، جب کہ شوگر ڈرنکس پر جی ایس ٹی سے 60 ارب حاصل کرنے کا پلان ہے۔ دستاویز میں ہے کہ زیادہ آمدنی والیافراد پربراہ راست ٹیکس سے256 ارب ریونیو حاصل کرنے کا پلان ہے، 15 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والوں سے 1 سے 4 فیصد سپر ٹیکس وصول کیاجائے گا، جس سے 120 ارب روپے حاصل ہوں گے۔


