بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں حکومتی امداد دیکھنے کو نہیں ملی، بی ایس او

تربت (انتخاب نیوز) بی ایس او کی مرکزی کمیٹی کی رکن سازین بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستان میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکام اپنی ظالمانہ و جابرانہ پالیسیوں کو فوری طور پر ترک کرکے بلوچستان میں سیلابی تباہ کاریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ہزاروں لوگوں کو بچانے میں کردار ادا کریں اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو خصوصی گرانٹس جاری کرکے ایک سال کیلئے طلباءکی فیسیں معاف کردیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کے روز تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر بی ایس او تربت زون کے پریس سیکرٹری سدھیر ولی اور ڈپٹی آرگنائزر حسن بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سازین بلوچ نے کہاکہ حالیہ سیلابی بحران سے پہلے بھی بلوچ سماج مجموعی طور پر تباہ حال تھا اور اس آفت نے اس بدحالی کو تباہی و بربادی میں بدل دیا ہے، اس وقت سیلاب کی وجہ سے لوگوں کے گھر زمین بوس ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، مال مویشی مر چکے ہیں، کھانے کو کچھ نہیں بچا، اس تمام تر تباہی کا اثر پہلے سے تباہ حال تعلیمی نظام پر پڑے گا اور تباہی مزید شدت اختیار کرے گی، ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ایک کالونیل تعلیمی نظام ہے جس میں طلبہ کو فقط پیروی کرنا سکھایا جاتا ہے مگر سوال و تنقید اور تحقیق و احتساب پر مکمل طور پر قدغن لگادی گئی ہے۔ آئے روز نیو لبرل پالیسیوں کے تحت تعلیمی اداروں کو سرمایہ داروں کی جھولی میں پھینکنے کی کاوشیں ہوتی ہیں، تسلسل سے فیسوں میں اضافہ جب کہ تعلیمی بجٹ میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، پبلک تعلیمی اداروں کو اتنا دبایا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت مالی دیوالیے کا شکار ہو چکی ہیں اس وقت ان کے پاس اساتذہ و دیگر سپورٹنگ اسٹاف کو تنخواہیں دینے کیلئے بھی پیسے نہیں،اس تمام تر تعلیم دشمنی کا خمیازہ عام مجبور طالب علم بھگت رہا ہوتا ہے اور آخر کار مجبور ہو کر اس کلرک پیدا کرنے والے تعلیمی نظام سے بھی کنارہ کش ہو جاتا ہے،انہوں نے کہاکہ عالمی سامراجوں کی معاشی چپقلشوں اور یوکرین، یمن،مالی، شام وغیرہ میں گرم جنگوں نے محکوم اقوام عوام کی حالت زار بد سے بد تر کر دی ہے، سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ان سامراجی طاقتوں کے پاس جنگی جنونیت و انسان کش جنگوں کے لیے کھربوں ڈالرز ہیں مگر بھوکوں، بے گھروں، بیماروں کیلئے ایک ڈالر تک خرچ کرنے سے انہیں موت پڑتی ہے اور ان کی سامراجیت کو زوال ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، یوکرین، تائیوان و اسرائیل وغیرہ میں جنگی جنونیت کیلئے اربوں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری اس جنگی جنونیت کی واضح ترین مثال ہے، عالمی سامراجیت کا قائل سرمایہ دارانہ نظام اس وقت ایک ایسی نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں یہ دنیا ایک مخصوص سفاک اقلیت کے لیے جنت بنا دیا جاچکا ہے جبکہ باقی مجموعی انسانیت کے لیے اس نظام کے تحت یہ دنیا جہنم بن چکی ہے، وہیں اس 90 فیصد انسانی آبادی کیلئے فقط بھوک، افلاس، بزگی و بدحالی اور تذلیل کن زندگی و اذیت ناک موت کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا، انہوں نے کہاکہ لوٹ کھسوٹ، قبضہ گیری اور استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ پالیسیاں ہی ہیں جس کی وجہ سے آج ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث انسانیت زیست و موت کے کشمکش سے دو چار ہے، انسانیت کی اس اقلیت کی لوٹ کھسوٹ اور کارپوریٹ سامراجیت کی عیاشیوں و سفاکیوں کا خمیازہ تیسری دنیا کے محکوم اقوام و طبقات بھگت رہے ہیں، ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں لوگ بھوک و بدحالی تباہی و بربادی اور المناک اموات کا شکار ہیں جب کہ سرمایہ داروں و سامراجی پالیسی سازوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ سیلابی تباہ کاریاں بھی اسی ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں جس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے اور ایسی تباہ کاریوں کی شدت پھر مزید تباہ کن اس وقت ہوتی ہے جب حکمران کالونیل نفسیات رکھتے ہوں اور محکوم اقوام و طبقات پر بزور شمشیر اپنا تسلط برقرار رکھنے، مسلسل انہیں کچلنے کیلئے کوشاں ہوں اور جنگی جنونیت میں مبتلا ہوں،حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ تباہ کاریاں بلوچستان اور سندھ میں ہوئیں، بلوچستان میں اس وقت لاکھوں لوگ بے گھر و بھوکے اور بیماریوں میں مبتلا ہیں، سینکڑوں لوگ حاکموں کی غفلت و سفاکیت کی وجہ سے زندگی سے محروم ہو چکے ہیں اور اس وقت کسی بھی طرح کا حکومتی امداد بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیکھنے کو نہیں ملتی،بلوچستان کو ہمیشہ ایک کالونی کے طورپر رکھنا اور اس میں اموات کو مسلسل پھیلاتے رہنا حکمرانوں کی انسان دشمن و بلوچ دشمن پالیسی رہی ہے، اس تباہ کاری کو بھی ہمارے حکمران سنجیدہ لینے کی بجائے الٹا بلوچ کی بدحالی و بزگی کو بڑھانے کا سبب بنا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں