نااہل صوبائی حکومت نے ابھی تک سیلاب متاثرین کو ریسکیو نہیں کیا، سول سوسائٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) سول سوسائٹی کے نمائندوں ڈاکٹر امداد بلوچ، بہرام لہڑی، سعدیہ عثمان، زہرا بی بی نے کہا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے کوئٹہ سمیت بلوچستان میں تباہی مچائی ہے۔ نصیر آباد اور میں ابھی تک لوگ آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں نااہل صوبائی حکومت نے ابھی تک متاثرین کو ریسکیو نہیں کیا، مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں ہماری تنظیم درست اعداد وشمار کو آن لائن کے ذریعے مرتب کرینگے کیونکہ صوبائی حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں نصیر آباد میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر امداد بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ تباہ کن بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچائی ہے بحالی ،رضا کاران کے نام سے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے کوئٹہ ہر مکتبہ فکر کے افراد کو شامل کر کے اجتماعی تحریک پیدا کی جائے گی رضا کاروں کی بھرتی حالات سے نمٹنے کیلئے تربیت دی جائے گی انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس تباہ شدہ علاقوں کا مکمل ڈیٹا نہیں نصیر آباد جمع شدہ پانی نکالنے کا راستہ نہیں جو بڑی تباہی لائے گی اعداد وشمار کو سیاسی مصلحت کے تحت چھپا یاجاتا ہے ہماری تنظیم درست اعداد وشمار کو آن لائن مرتب کرینگے انہوں نے کہا کہ 6کی مدد کا پلان مرتب کیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ وسائل کے نہ ہونے کا غلط رونا رویا جارہا ہے وکلاءصحافی ودیگر افراد کو متاثرین تک رسائی دی جائے بہت سے گروپ اپنے استعداد کیلئے کوشاں ہیں حکومتی سطح پرکارروائیاں ناکافی ہیں نصیر آباد کے علاقوں میں جاگیر داروں کی فصلات کو بچانے کیلئے آبادیوں کو ڈبویا گیا نصیر آباد کے غریب کسانوں کو انسان تک نہیں سمجھا گیا اربوں روپے بٹورنے والے اداروں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں متاثرین جان بچانے کا سامان تک متاثرین کے پاس نہیں انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ریلیف دینے کاکام اپنی ذات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے سول سوسائٹی کے افراد کو منظم کر کے بحالی کے کام کا آغاز کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں