عالمی مہلک وبا کے بارے میں یورپی ممالک اور صدر ٹرمپ کو پہلے آگاہ کیا تھا۔ بل گیٹس

کراچی:مائیکرو سافٹ کے بانی اور ارب پتی کاروباری شخصیت بل گیٹس نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو 2016ء میں ان کی انتخابی کامیابی کے فوراً بعد آگاہ کیا تھا کہ دنیا میں کسی بڑی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے تاہم، بل نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ اس معاملے پر انہوں نے کھل کر زیادہ بیانات نہیں دیے۔وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ میں نے یورپ اور امریکا میں مختلف سطحوں پر لوگوں سے ملاقات کرنے اور انہیں آنے والے خطرے سے آگاہ کرنے کا انتخاب کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے پر ٹرمپ ٹاور میں 2016ء میں امریکی صدر سے ملاقات کے دوران مقدمہ بھی پیش کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اصولی طور پر دنیا بھر کے رہنمائوں نے مشورے پر اتفاق کیا تھا لیکن تیاری کے معاملے میں کچھ ہی ملک ایسے تھے جنہوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا، اس سست رویے کی وجہ سے میں نے خود ہی مسئلے کا حل تلاش کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ جب بھی میں یہ سوال کرتا تھا کہ نظام تنفس کے ذریعے پھیلنے والے وائرس کے حوالے سے آپ کی کیا تیاری ہے۔شٹ ڈائون کی صورت میں اور بندش کی صورت میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے کیا تیاری ہے، وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کیا اقدامات کر سکتے ہیں، کیا ماسک سے مدد مل سکتی ہے یا نہیں؛ ایسے سوالات تھے جن کا اکثر مواقع پر کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔2000ء میں قائم کی جانے والی تنظیم بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کے ذریعے بل گیٹس نے اپنی توجہ مختلف معاملات کی طرف تقسیم کر دی ہے، جن میں ایبولا اور زیکا وائرس سے نمٹنے کیلئے مالی معاونت شامل ہے، تاہم اب کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے بھی فنڈنگ کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ 2015ء میں بھی TED کانفرنس کے دوران بل گیٹس نے خبردار کیا تھا کہ دنیا کسی بڑی وبا کے پھیلنے کے نتیجے میں صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔ اُس وقت انٹرویو میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اگر آج کسی وبا کی وجہ سے دنیا میں ایک کروڑ افراد مر جائیں تو یہ کسی بھی جنگ کے مقابلے میں سب سے زیادہ خطرناک بات ہوگی۔ اس کی وجہ کوئی جنگ یا میزائل نہیں بلکہ حیاتیاتی جرثومہ ہوگا۔اب انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں دنیا کو اتنے موثر انداز سے خطرے سے آگاہ نہ کر پایا جتنا مجھے اس معاملے پر کھل کر بات کرنا چاہئے تھی۔ بل گیٹس نے موجودہ وقت کو اپنی زندگی کا انتہائی ڈرامائی وقت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ بالآخر ہم کوئی ویکسین ایجاد کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ویکسین بنانا بہت آسان کام لگتا ہے کہ لیکن آج تک دنیا میں کسی نے بھی 7؍ ارب ویکسین تیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں ایبولا وائرس بھی پھیلا لیکن اس کے باوجود ترقی یافتہ اقوام نے صورتحال کو نظرانداز کر دیا کہ اس جیسی کوئی اور چیز بھی دنیا پر حملہ آور ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ایبولا کے نتیجے میں 11؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔بل گیٹس کا کہنا تھا کہ دنیا اس لحاظ سے خوش قسمت رہی کہ ایبولا وائرس صرف مغربی افریقہ میں پھیلا اور دیہی علاقوں تک ہی محدود رہا۔ انہوں نے کہا کہ شاید اگلی مرتبہ ہم اتنے خوش قسمت ثابت نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو چاہئے کہ وہ جس طرح جنگ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں ویسے ہی وبائی امراض کو بھی سمجھیں۔جس طرح جنگ کے خطرات سے نمٹنے کیلئے جنگی مشقیں کی جا تی ہی ویسے ہی جراثیم سے نمٹنے کیلئے بھی مشقیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر اتنا پیسہ خرچ کیا ہے لیکن وبائی امراض سے بچنے کیلئے اپنے نظام پر اتنی سرمایہ کاری نہیں کی۔
برطانوی اخبار نے اس صورتحال پر وائٹ ہائوس کا موقف معلوم کرنے کی کوشش کی تاہم جواب نہیں ملا۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ وبا کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ اس سے نمٹنے کا بھی کوئی طریقہ بظاہر نظر نہیں آ رہا۔
3؍ کروڑ 30؍ لاکھ امریکی اب تک بیروزگاری الائونس کیلئے درخواست دے چکے ہیں جبکہ فوڈ بینک سے خوراک لینے والوں کی طویل قطاریں دیکھنا لوگوں کیلئے معمول بن چکا ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک 80؍ ہزار امریکی ہلاک ہو چکے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں توقع ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں