گرلز ہائی اسکول بلوچی گوٹھ بیلہ کی خستہ حالی، طالبات آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

بیلہ (انتخاب نیوز) گرلز ہائی اسکول بلوچی گوٹھ بیلہ کی طالبات اور استانیوں کے ساتھ ظلم کی انتہا، مخدوش عمارت کے احاطے میں 40 سینٹی گریڈ گرمی اور تیز دھوپ میں پڑھانے پر مجبور، پانچ سال قبل زلزے میں اسکول کی عمارت مخدوش ہوئی تاحال تعمیر ومرمت نہ ہوسکی معصوم طالبات کا کڑھتی دھوپ میں برا حال ہونے لگا استانیوں کو بھی اذیت و دشواریوں کا سامنا ہے تفصیل کے مطابق میونسپل کمیٹی بیلا میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی عمارت مخدوش اور خستہ حال ہونے کے سبب 360 طالبات اور 18 ٹیچرز جھلسادینے والی دھوپ میں آسمان تلے درس وتدریس کا عمل جاری رکھنے پر مجبور ہیں اسکول کو ہائی کادرجہ دیا گیا مگر عمارت نہیں۔ بدھ کے روز عوامی پریس کلب بیلہ کے صحافیوں کے دورے کے دوران اسکول کی استانیاں اور طالبات نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور متعلقہ ذمہ داروں کی بیحسی اور چشم پوشی پر گفتگو کرتے کہا کہ ہمیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ہمارے اسکول کی عمارت 5 سال سے مخدوش اور خستہ حال ہے متعلقہ ذمہ داران اور محکمہ تعلیم کے حکام مسلسل چشم پوشی کرتے آرہے ہیں ایک طرف تعلیمی فروغ کے بلند و بانگ حکومتی دعوے ہورہے ہیں تو دوسری جانب معصوم طالبات اور استانیاں شدید گرمی اور دھوپ میں تعلیمی نظام جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری دشواریوں اور پریشانیوں کا نہ تو محکمانہ افسران کو احساس ہے اور نہ ہی منتخب عوامی نمائندے شنوائی کرنے کی زحمت گوارہ کررہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے سب فوٹو سیشنزتک محدود ہیں تعلیمی بہتری کیلئے کوئی عملی طور پر مخلص نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہمارے اسکول کو نقصان ہوا ہے، انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران ابھی تک نے ابھی تک خیمہ وغیرہ بھی نہیں دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمران اور محکمہ تعلیم کے افسران چشم پوشی ترک کریں اور ہماری حالت زار پر رحم کھا کر اسکول کی مخدوش عمارت کی تعمیر ومرمت کے لیے فوری اقدامات کرکے آرٹیکل 25 اے (A\25) کی پاسداری کی جائے اور بچوں کو بہتر تعلیم کا حق دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں