حکومت نے معاہدہ پر عمل نہیں کیا ، حق دو تھریک ، تسلیوں سے تنگ آچکے ،لواحقین لاپتہ افراد
تربت (نمائندہ انتخاب ) حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے صوبائی حکومت کی وعدہ خلافی کے خلاف ایک بارپھر 27اکتوبر سے گوادر میں غیرمعینہ مدت کیلئے دھرنا کا اعلان کردیا، 10اکتوبر کو تربت میں ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیاجائے گا ،ایف سی بلوچستان سے نکال دیاجائے، ہفتہ کی شام تربت پریس کلب کے سامنے سڑک پر عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ گوادر دھرنا کے بعد صوبائی حکومت نے ہمارے ساتھ 16دسمبر کو ایک معاہدہ کیا جس کے 3اہم نکات تھے جس میں بارڈر ، ساحل اورلاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبات سرفہرست تھے مگر کسی بھی مطالبہ پر خاطرخواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی ،صوبائی حکومت نے ہم سے دغاکیا اور جھوٹ بول کر وعدہ خلافی کی، مگرحکومت یادرکھے کہ ہم تھکے نہیں ہیں اورنہ ہی ہمارے جذبے کمزور ہوئے بلکہ 27اکتوبر کو ایک بارپھر گوادر Y چوک پرغیرمعینہ مدت کیلئے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا دیںگے، انہوں نے کہاکہ بارڈر سے متعلق معاملات ایف سی سے لیکر سول انتظامیہ کے حوالے کرنا، مکران کے تمام بارڈرکراسنگ پوائنٹس کو کاروبارکیلئے کھولنے، لسٹنگ ، ای ٹیگ ، ٹوکن کے بجائے صرف شناختی کارڈپر لوگوں کو کاروبار کی اجازت دینے ، بھتہ خوری کا خاتمہ، سرحدپر جانے والی گاڑی ڈرائیور کے ساتھ ہیلپر یاکلینر کو جانے کی اجازت دینے کے مطالبہ کو صوبائی حکومت نے تسلیم توکیا مگر صرف بارڈر معاملات ایف سی سے لیکر سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کے سوا دیگر مسائل تاحال نہ صرف برقرار ہیں بلکہ نااہل انتظامیہ کی وجہ سے بدترین بھتہ خوری جاری ہے ،ایف سی کی مداخلت جاری ہے ، دشتک ، جالگی، چکاپ، اپسار ،کپکپار، کہیرتوک تمام بارڈر کھولے جائیں ، ٹوکن سسٹم اور ایف سی کی کسی قسم کی مداخلت قابل قبول نہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ بارڈر معاملات جب ایف سی کے پاس تھے تووہ دور بہترنہیں تھا میں کہتاہوں کہ ایف سی ہمیں کنٹینروں میں سونا بھرکر بھی دے توہمیں ایف سی قبول نہیں ، وہ ہمارے بچوں کا قاتل ہے ، ایف سی اپنے تحفظ کیلئے پریشان ہے اپنے تحفظ کیلئے انہوں نے گروک ، کترینز ، سیاہلو سمیت تربت شہرکے اندر راستے بند کردیتاہے وہ بلوچستان سے نکل جائے تو اس کیلئے بھی خطرہ نہیں ہے اور عوام بھی محفوظ رہیں گے ، انہوں نے کہاکہ سول انتظامیہ کی گردن میں جو سریا ہے اسے بھی ٹھیک کردیں گے ، ڈی سی کیچ کا تبادلہ کیاجائے اگر10اکتوبر تک ان کاتبادلہ نہ ہواتو10اکتوبر کو ڈی سی آفس کے سامنے عظیم الشان دھرنا دیں گے ، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے700کلومیٹر طویل ساحل پر ٹرالر مافیا کا راج ہے ٹرالرز ساحل کوتاراج کررہے ہیں ، اب تو وہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی پر اترآئے ہیں اورگزشتہ روز فشریز کی پٹرولنگ ٹیم پر بھی حملہ کیاگیاہے ، جبکہ ہمارا یک اہم نکتہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا تھا مگر اس پر خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے آج بھی یہاں ہماری مائیں بہنیں اپنے پیاروں کی تصویریں لئے بیٹھی ہیں، لاپتہ افرادکے معاملہ میں بہتری کے بجائے بدتری آئی ہے ، گزشتہ مہینوں میں ڈی بلوچ شاہراہ پر دھرنا کے بعد ڈی سی کیچ نے15دنوں کی مہلت مانگی تھی اس دھرنے میں لاپتہ نعیم رحمت، اکبر اسلم ، وسیم امام سمیت 18لاپتہ افراد کے لواحقین شریک تھیں مگر انہیں یہ امیددلائی گئی تھی کہ آپ کے پیارے بازیاب کرائے جائیں گے بازیابی کے بجائے اب انتظامیہ ان سے بات کرنے کیلئے بھی تیارنہیں ، انہوں نے کہاکہ نیشنل پارٹی اورمینگل کو چیلنج ہے کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے لاپتہ افرادکے مسئلہ پرکیا کیاہے ؟ اس سلسلے میں ہم ہرقسم کی قربانی کیلئے تیارہیں اورکسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ، انہوں نے کہاکہ فورسزکی چیک پوسٹوں پر لوگوں کی تذلیل کا سلسلہ جاری ہے ،گھروں اور اسکولوں پر چیک پوسٹیں ابھی تک برقرار ہیںمنشیات کی لعنت بڑھتی جارہی ہے ، دن کی روشنی میں منشیات کا کاروبار عام ہے منشیات کے تدارک کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایاجارہاہے ، پولیس، لیویز، ایف سی سمیت ادارے سب بھتہ خوری میں مصروف ہیں ایک طرف ایٹمی قوت اورجدید ٹیکنالوجی کے دعوے کئے جارہے ہیں مگر ساری ٹیکنالوجی دن کی روشنی میں منشیات کے کاروبارکے تدارک میں ناکام ہے ،انہوں نے پنجگور میں بدامنی کی بڑھتی وارداتوں پر شدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ پنجگور میں ایک گروہ سرعام سب کی ناک کے نیچے قتل، ڈکیتی کی وارداتیں کررہاہے ، گزشتہ ایک مہینہ میں30سے زائد بے گناہ مارے گئے ہیں، کل پرسوں 2معصوم طالب علم شہید کئے گئے ، کسی کے قاتل قانون کی گرفت میں نہیں آتے ، کون ہیں یہ قاتل، کون ہیں یہ چور ڈکیٹ ، کہاں ہے قانون کی رٹ ؟ عوام کو ڈکیٹ گروہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیاہے ، انہوں نے کہاکہ کیچ کور کے اندرقائم کرش پلانٹ برسات کے موسم میں عوام کی نیندیں حرام کردیتی ہے مگر ڈی سی کیچ کرش پلانٹ کے وکیل بن چکے ، کرش پلانٹ کے سامنے قانون اور انتظامیہ بے بس بن چکے ہیں ، لیز اورکتھونی کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر یہ لیز اورکتھونی کس نے دئیے ہیں کرش پلانٹ سے ایک بڑی آبادی خطرات سے دوچارہے حق دو تحریک اس پر خاموش نہیں رہے گی بلکہ مزاحمت کرے گی، انہوں نے کہاکہ میرانی ڈیم متاثرین 26جون2007سے اپنے معاوضوں سے محروم ہیں حالانکہ پیسے اکاﺅنٹ میں موجودہیں مگر متاثرین میں تقسیم نہیں کئے جارہے ہیں ،بعدازاں شاپک سے آئی ہوئی لاپتہ افرادکے خواتین لواحقین نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ انہیں جویقین دہانیاں کی گئی تھیں ان پر عملدرآمد نہیں ہورہاہے ہم تسلیوں سے تنگ آچکے ہیں ہمارے بھائی اوربیٹے بازیاب کئے جائیں ، لاپتہ اکبر اسلم، نعیم رحمت ودیگر نے اگر کوئی گناہ کیاہے توہمیں بتادیاجائے خواتین نے کہاکہ اگر 3دن میں ہمارے بھائی وبیٹے بازیاب نہ ہوئے توہم سی پیک شاہراہ اور ڈی بلوچ شاہراہ بلاک کریں گے اورکسی صورت شاہراہ نہیں کھولیں گے ، اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمن نے ان کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ سی پیک شاہراہ بلاک کرنے میں حق دو تحریک ان کے ساتھ ہے ہم لاپتہ افرادکے خاندانوں کے ساتھ ہیں، عوامی پریس کانفرنس میں حق دوتحریک کے بزرگ رہنما واجہ حسین واڈیلہ، حق دوتحریک کیچ کے چیئرمین محمد یعقوب جوسکی، وائس چیئرمین صادق فتح، غلام یاسین بلوچ، غلام اعظم دشتی ، گوادرسے حفیظ کیازئی، حاجی ناصرپلے زئی ، مولانا نصیر احمد زامرانی، صبغت اللہ شاہ جی ،گلاب بلوچ، شاہ جہان بلوچ ودیگر بھی موجودتھے ، جبکہ شاپک سے لاپتہ افرادنعیم رحمت، اکبر اسلم ودیگرکے لواحقین خواتین اوربچے بھی کثیرتعدادمیں شریک تھے ۔


