میر یوسف مستی خان کی وفات سے بلوچستان ترقی پسند اور قوم پرست رہنما سے محروم ہوگیا، ڈاکٹر مالک

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے اپنے مشترکہ بیان میں بلوچ قوم پرست اور ترقی پسند سیاست دان یوسف مستی خان کی رحلت پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان اور ملک ایک ترقی پسند قوم پرست، بہادر اور سچے انسان سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا۔ یوسف مستی خان ایک باہمت، نادر اور مخلص شخصیت تھے وہ بہ یک وقت بلوچستان و سندھ اور ملک بھر کے بلوچوں اور انسانیت کے حقیقی ترجمان، ان کی پکار، مظلوم و محکوم طبقات کے قومی جمہوری سیاست کے علمبردار تھے۔ میر یوسف مستی خان نیشنل عوامی پارٹی کے اہم قومی رہنما تھے۔ انھوں نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور لالا لعل بخش رند، سردار عطا اللہ خان مینگل اور خیر بخش خان مری سمیت قوم پرست و ترقی پسند قیادت کے ساتھ ملکر ملک میں مارشل لاوں کیخلاف جمہوریت اور انسانی وقار کی بلندی کے لیے بھرپور سیاسی جدوجہد کی۔ ملک میں جمہوریت و قانون کی بالادستی، ون مین ون ووٹ، ون یونٹ اور ایوبی مارشل لا کیخلاف نیپ کی تحریک میں رہنمایانہ کردار ادا کیا۔ وہ بابا بزنجو کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ انھوں نے کراچی کے بلوچ عوام کو منظم و متحرک کرنے میں بہت کوشش کی وہ کراچی میں بسنے والے بلوچوں اور مظلوم و مفلوک الحال عوام کے حقیقی وارث و آواز تھے ملک میں ہونے والے ہر انصافی اور ہونے والی جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی ماند کھڑے رہے۔ میر یوسف مستی خان کا سیاست میں اپنا ایک فکر نظر رہا اور آخری دم تھے ترقی پسند تحریک سے جھڑے رہے۔ میر یوسف مستی خان عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی صدر تھے ان کی رحلت سے جہاں بلوچ و بلوچستان ایک توانا اور سچے رہنما سے محروم ہوئے، وہاں عوامی ورکر پارٹی اور مستی خاندان ایک مدبر اور دور اندیش سربراہ سے محروم ہوگے ۔ میر یوسف مستی خان کی کمی ہر سطح پر محسوس کی جائے گی اللہ تعالی میر یوسف مستی خان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں آسودہ جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں