جب وزیراعلیٰ تھا لاپتہ افراد کی فہرست آرمی چیف اور صدر آصف زرداری کو دی تھی، نواب رئیسانی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان وچیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہاہے کہ گوادر کو صوبے کا سرمائی دار الحکومت قراردینے کامنصوبہ 2013 کے بعد کہیں غائب ہو گیا،ایم پی اے بن کر اپنے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوںوزیر اعلیٰ رہ چکا ہوں اور اب مجھے وزیر یاا سپیکر بننے کا کوئی شوق نہیں، سیاسی جماعتیں سچ بولیں اور اس دوہری پالیسی کو بدلیں، ورنہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمارے بزرگوں نے اس سرزمین کے حصول کےلیے بڑی جدوجہد کی ہے،قربانیاں دی ہیں ۔ہمیں تقسیم ہونے کے بجائے متحد ہو کر ترقی پسند پارلیمانی قوت بننا چاہیے جعلی ڈگری سے متعلق ایک حقیقت بیان کی تھی قانون سازوں کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان میں سے اکثر کے پاس یا تو کوئی تعلیمی اسناد ہے ہی نہیں، یا پھر ان کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ نواب محمداسلم رئیسانی نے کہاکہ اگر آپ ہمارے قانون سازوں کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان میں سے اکثر کے پاس یا تو کوئی تعلیمی اسناد ہے ہی نہیں، یا پھر ان کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ میں نے صرف ایک حقیقت بیان کی ہے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایسے کئی کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کے معاملے سے میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ جب میں وزیراعلیٰ تھا تو میں نے لاپتہ افراد کی فہرست اس وقت کے آرمی چیف اور صدر آصف علی زرداری کو دی تھی۔اس حوالے سے پاورا سٹرکچر میں بہت سے دیگر متعلقہ لوگوں سے بھی رابطہ کیا۔میرے دور میں وفاقی حکومت نے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ایک اعلی سطحی اجلاس بلایا، جس کی صدارت اس وقت کے صدر نے کی جبکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر حکام بشمول انٹر سروسز انٹیلی جنس اور ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرلز اس اہم اجلاس میں شریک تھے ۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میرا شہر ہے۔ میں یہیں پیدا ہوا اور یہیں پلا بڑھا۔ میں نے اپنی تعلیم شہر میں حاصل کی۔ میرے پاس مناسب شہری منصوبہ بندی کے ذریعے شہر کی بہتری کا وژن تھا لیکن وسائل کی کمی آڑے آگئی ۔ ایک اندازے کے مطابق صوبائی دارالحکومت کی اصلاح کے لیے 200 ارب روپے کی رقم درکار ہے شہر میں سیوریج کے مناسب نظام، سڑکوں کے نیٹ ورک اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔مناسب شہری منصوبہ بندی کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ میرے خیال میں آپ کو یہ سوال ان سے پوچھنا چاہئے جنہوں نے اس منصوبے کو روک دیا۔میری خواہش ہے کہ یہ سوال ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھیوں سے بھی پوچھا جائے۔ میں نے جان بلیدی سے فون پر اس معاملے پر بات کی تھی لیکن یہ منصوبہ 2013 کے بعد کہیں غائب ہو گیا۔یہاں تک کہ میں نے گوادر پورٹ اتھارٹی کی عمارت میں اسمبلی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کر لی تھی جب کہ سیکرٹریز اور وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے لیے دفاتر قائم کرنے کے لیے مقامات کی نشاندہی بھی کی تھی، لیکن ، ڈاکٹر مالک نے وہ جگہ جو میں نے اسمبلی اجلاسوں کے لیے مختص کی تھی پاکستان آرمی کو دے دی، جو اسے بریگیڈیئر ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں بلوچستان اسمبلی کا نجی رکن ہوں، اور صرف ایم پی اے بن کر اپنے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔میں صوبائی وزیر اعلی رہ چکا ہوں اور اب مجھے وزیر یاا سپیکر بننے کا کوئی شوق نہیں۔نواب اسلم رئیسانی نے کہاکہ بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ خدا ان کو ہدایت دے کہ وہ سچ بولیں اور اس دوہری پالیسی کو بدلیں، ورنہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ہمارے بزرگوں نے اس سرزمین کے حصول کےلیے بڑی جدوجہد کی ہے،قربانیاں دی ہیں ۔ہمیں تقسیم ہونے کے بجائے متحد ہو کر ترقی پسند پارلیمانی قوت بننا چاہیے۔واضح رہے کہ نواب محمد اسلم خان رئیسانی کا تعلق قلات ڈویژن کے علاقے سراوان سے ہے۔ وہ 1988 سے اب تک چار مرتبہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔نواب اسلم خان رئیسانی 2008 میں بلوچستان کے وزیر اعلی کے طور پر منتخب ہوئے تھے لیکن ہزارہ برادری کے افراد کے قتل پر احتجاج کے دوران انہیں 2013 میں اپنی مدت ختم ہونے سے قبل ہی عہدہ چھوڑنا پڑا ۔نواب رئیسانی بلوچستان اسمبلی کے امیر ترین قانون ساز ہیں اور اس وقت بلوچستان میں چیمبر آف ایگریکلچر کے صدر بھی ہیں۔ نواب اسلم خان رئیسانی کو جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی گہری دلچسپی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں