وزیراعلیٰ بلوچستان معائنہ ٹیم نے سیلاب سے ڈیمز ٹوٹنے کی تحقیقات مکمل کرلیں
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے صوبے میں مون سون بارشوں کے دوران سیلابی ریلوں سے صوبے میں ڈیمز کے ٹوٹنے کی تحقیقات مکمل کرلیں، ڈیمز کے ڈیزان میں ٹیکنیکل نقائص،ناقص تعمیرات اور سیاسی بنیادوں پر ڈیمز کی جگہوں کا انتخاب اور بدعنوانی بیشتر ڈیموں کی ٹوٹنے کی وجوہات بتائی جاتی ہیں، رپورٹ میں محکمہ اب پاشی کے آفیسران اورکنسلٹنٹس کو ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں رواں سال پندرہ جون سے لیکر 25اگست تک مون سون کے پانچ اسپیلز کے دوران 120ڈیمز ٹوٹ جانے سے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات ہوئے جس پر بلوچستان حکومت نے ڈیمز ٹوٹنے کی تحقیقات وزیر اعلی معائنہ ٹیم سے کرانے کا فیصلہ کیا، معائنہ ٹیم نے ڈیڈھ ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ چیف سیکرٹری کو ارسال کردی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ مون سون کے دوران 27 ڈیمز مکمل ٹوٹ گئے جبکہ 93کو جزوی نقصان پہنچا،جن کے اسپیل ویز متاثر ہوئے،،جو 27ڈیمز مکمل طور پر ٹوٹے ان میں بارہ فعال ڈیمز تھے جبکہ 15 زیر تعمیر اور جاری ترقیاتی اسکیموں کا حصہ تھے، ان ڈیمز کے ٹوٹنے سے بلوچستان حکومت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 5 ارب روپے لگایا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے صوبے میں ٹوٹ جانے والے بیشتر ڈیمز کی تعمیر انتہائی ناقص تھی، قلعہ عبداللہ کا ماچکا ڈیم اور لورالائی کا شیر جان کڈی ڈیم ناقص تعمیر کی بدترین مثال تھے، ٹوٹنے والے بیشتر ڈیمز میں ٹیکنکل خامیاں تھیں،زیادہ ترڈیمزکے اسپل وے درست تعمیر نہیں کئے گئے تھے، قلعہ عبداللہ میں تعمیر ہونے والے سو ڈیمز منصوبے کے تحت ڈیمز کی تعمیر بڑی حد تک ناقص تھی، ان میں بیشتر ڈیمز کی تعمیر کیلئے مقامات کا انتخاب غلط کیا گیا تھا،اس کے ساتھ ساتھ پچھلے دس برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وارننگ کا بھی خیال نہیں رکھا گیا، سی ایم آئی ٹی نے ڈیمز ٹوٹنے کا ذمہ دار بلوچستان کے محکمہ آب پاشی کے متعلقہ افیسران اور کنسلٹنٹس قراردیا ہے، سی ایم آئی ٹی نے رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ صوبے میں آئندہ ڈیمز کی تعمیر ملکی سطح کے بڑے اداروں سے کروائی جائے جبکہ سو چھوٹے ڈیمز کے منصوبوں کے بجائے چند بڑے اور معیاری ڈیمز بنانے کے منصوبے تیار کئے جائیں۔


