بسیمہ میں آٹے کا شدید بحران، فی بوری قیمت 13 ہزار روپے سے تجاوز

واشک (انتخاب نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی ضلع واشک کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری عامر زیب ¾ محمد یاسین چنال ¾ظاہر خان سمالانی نے بسیمہ میں آٹے کا بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے فی بوری آٹے کی قیمت 13 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے عوام شدید پریشان ہیں سرکاری گودام کو سالوں سے تالا لگا ہوا ہے گودام کا سرکاری کوٹہ کہاں غائب ہے کوئی جواب دینے والا نہیں محکمہ خوراک لاپروائی کا مظاہرہ کر رہا ہے اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہے ہیں گلی سڑی سبزیوں کی قیمتیں پرائس کنٹرول کمیٹی کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ وفاقی وزیر پیدوار کے حلقہ انتخاب میں یوٹیلیٹی اسٹور کا نہ ہونا ان کے نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے بسیمہ میں حکومت رٹ لوٹ مار اسمگلنگ کی حد تک ہے روزانہ یوریا اسمگلنگ کرنے والے گاڈیوں اور بیک گاڑیوں میں ڈیزل اسمگلنگ کرنے والوں سے لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے انتظامیہ کا کام بھتہ وصول کرنا رہ گیا ہے عوام کی تحفظ اور ضرورتوں کا انھیں کوئی خیال نہیں ان سب کوتائیوں کی ذمہ دار عوامی منتخب نماہندے ہیں جو من پسند افیسرز تعینات کر کے کمائی پر لگا دیتے ہیں اور عوام کو چور ڈاکوں کی رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے چیف سیکریٹری بلوچستان سیکرٹری محکمہ خوراک کمیشنر رخشان ڈویڑن ڈپٹی کمشنر واشک آٹے کے بحران اور علاقائی بد انتظامی بھتہ مافیہ یوریا کی اسمگلنگ کا فوری نوٹس لے کر عوام کو تحفظ فراہم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں