ایران ملک میں احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے سزائے موت کو آلہ کار نہ بنائے، اقوام متحدہ
نیو یارک:اقوام متحدہ نے ایرانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے سزائے موت کو آلہ کار نہ بنائیں،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 16ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں 29اکتوبر کو 8افراد کو سزائے موت دیے جا سکنے پر مبنی فرد جرم عائد کی گئی ہے جس میں دنیا میں فساد برپا کرنے کا الزام بھی شامل ہے،ایرانی حکام کو ملک گیر مظاہروں کا سر کچلنے کے لیے سزائے موت کو ایک مہرے کے طور پر استعمال نہ کا انتباہ دیے جانے والے اس بیان میں زیر حراست مظاہرین کو رہا کرنے کی اپیل کا اعادہ بھی کیا گیا ہے،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں کو مکمل طور پر روکنے کے لیے سزائے موت صادر کی جا سکنے والی فرد جرم بناتے ہوئے انہیں قلیل مدت میں سزا دیے جانے کا احتمال پایا جاتا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کی صف اول میں شامل دوشیزاوں اور خواتین تفریق بازی کے قوانین، پالیسیوں اور عمل درآمد کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں، جنہیں اس مطالبے کو ایک جرم ہونے کی پاداش میں جیل میں بند کیا جا رہا ہے ، ہمیں انسانی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف سخت گیر کاروائیاں کرنے کی تشویش لا حق ہے،بیان میں کہا گیا ہے کہ 16ستمبر سے اب تک ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں خواتین اور نوجوان شامل ہیں اور ان میں سے 14افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور کچھ قیدِ تنہائی میں ہیں،مظاہروں کے خلاف جبری کاروائیاں جاری ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کاروائیوں کے دوران کم از کم 304افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 24خواتین اور 41بچے شامل ہیں۔


