18ویں ترمیم میں ترمیم

ا س میں شک نہیں کہ وفاق نے مصمم ارادہ کرلیا ہے کہ 18ویں ترمیم میں مزید ترمیم کی جائے۔ہلکے پھلکے انداز میں تو وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی کہا تھا کہ صوبوں کو ان کا حصہ دینے کے بعد وفاق کے پاس جو رقم بچتی ہے اس میں دفاع وفاقی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے بعد غیرملکی قرضوں اور (واجب الادا قرضوں کے) سود کی ادائیگی کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے لئے درکار فنڈکی فراہمی ممکن نہیں۔وفاق یہی سمجھتا ہے کہ اس کا حصہ مناسب حد تک بڑھایا جائے۔ دوسری جانب صوبوں کی کارکردگی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں قابل رشک نہیں رہی۔اس حوالے سے وفاق کی جانب سے ان پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔اگرچہ صوبہ سندھ کی حکومت اندرونِ سندھ تعمیر کئے گئے امراض قلب اور گردوں کی ٹرانسپلانٹ کے اسپتالوں کا حوالہ دے کر وفاق کی تنقید کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتی ہے لیکن سچ یہی ہے کہ صورت حال دعووں کے برعکس ہے۔سارے مریض گردوں یا دل کے امراض میں مبتلاء نہیں ہوتے،نزلہ،زکام،بخارحادثات میں زخمی ہونے والوں کے مسائل کے علاوہ کتوں کے کاٹنے سے شدید زخمی شہریوں کی تعدادکراچی اور لاڑکانہ سمیت ہر ڈویژن میں ہزاروں تک پہنچ چکی ہے اور علاج کے لئے سرکاری اسپتالوں میں ویکسین دستیاب نہیں۔یہی صورتحال بلوچستان میں بھی نظر آتی ہے۔خود کش بم کے دھماکوں اور ٹریفک حادثات میں شدید زخمی افراد کا علاج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ یا صوبے کے دیگر اضلاع میں ممکن نہیں۔ بلوچستان وسیع رقبے (پاکستان کے 44فیصد)پر پھیلا ہوا صوبہ ہے۔اس صوبے کے عوام کوتحصیل ہیڈ کوارٹر میں علاج معالجے کی معیاری سہولتیں فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اس ذمہ داری کواحسن طریقے سے پورا نہیں کیا گیا۔علاج کے مریضوں کو کراچی لے جانا پڑتا ہے۔وکلاء پر خود کش حملوں نے حکومتی دعووں کا پول کھول دیا تھا۔بڑی تعداد میں زخمیوں کو کراچی لے جایا گیا تھا۔ ایسے مناظر قابلِ تعریف نہیں اصلاح کی بڑی گنجائش ہے۔غریب عوام کے پاس علاج کا واحد سہارا سرکاری اسپتال ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بلوچستان سمیت تمام صوبوں میں نصف سے زائد آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔
اس میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ صوبے اپنے فنڈز میں کٹوتی کے لئے رضاکارانہ طور پر تیار نہیں ہوں گے۔ آئین میں ترمیم کے لئے پارلیمنٹ کے ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور پارلیمنٹ سے مراد قومی اسمبلی اور سینیٹ ہے۔چیئرمین سینیٹ کیخلاف لائی جانے تحریک عدم اعتمادکاانجام شرمناک اور پر اسرار ناکامی پر ہوا یہ حالیہ تاریخ کا واقعہ اور پوری قوم نے دیکھا ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے ہونے والی قانون سازی کے مناظر بھی سب نے دیکھے ہیں۔مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال پریس کانفرنسز میں دہائی دے رہے ہیں کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپوزیشن کا بازو مروڑا جا رہا ہے۔ان کا اشارا نیب کی جانب سے شریف فیملی اور پی پی پی کی قیادت کے خلاف نئے مقدمات کی تیاری اور وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے 15جولائی تک جھاڑو پھرنے دعووں کی جانب ہے۔معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اورمشیر اطلاعات شبلی فراز کی حالیہ پریس کانفرنس کے علاوہ چیئرمین نیب کے بیانات سے تو یہی نظر آتا ہے کہ عید کے بعد گرفتاریوں میں تیزی آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے اپوزیشن شاید اپنی قوت کا مظاہرہ اس حد تک نہ کر سکے جتنی اس وقت اسے ضرورت ہے۔آئین کی ایک شق جس میں کہا گیا کہ قومی مالیاتی کمیشن صوبوں کے فنڈز گزشتہ سال ملنے والے فنڈز سے کم نہیں کر سکتا۔ یہ شق 18ویں ترمیم کا حصہ ہے۔لہٰذابات کہیں سے شروع ہو اس کا اختتام 18ویں ترمیم پر ہوگا۔
شہباز شریف کے حالیہ بیانات کو دیکھا جائے تو معاملہ کرسٹل کلیئر ہوکر سامنے آجاتا ہے۔جس ملک میں حکومتوں کی تشکیل انتخابات سے پہلے ہوجاتی ہو وہاں سب کچھ ممکن ہے۔اس میں صرف بازو مروڑنے والے کو برا بھلا کہنے سے کام نہیں چلے گاجواب انہیں بھی دینا پڑے گا جوایسی (قبل از انتخاب)کابینہ کی تیاری کے عمل میں بھرپور شرکت کرتے رہے ہیں۔سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے بجا طور پر درست رائے دی تھی کہ پاکستان کوآج ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے لیکن دوسری پارٹیوں کی قیادت کم علمی اور تنگ نظری کے باعث اس پیغام کی ہمہ گیریت کو سمجھ نہیں سکی۔لندن میں ایک معاہدہ ہوا جو آگے چل کر اس حوالے سے کوئی دیر پا اور قابل عمل دستاویز تیار کرنے میں کامیابی کا سنگ بنیاد بنتا مگراسے شریف فیملی نے وطن واپس آتے ہی نشانہ بنایا۔اس غلطی کا خمیازہ آج ملکی سیاست بھگت رہی ہے۔اب کوئی معجزہ ہی سیاست کو باوقار انداز میں نکال سکتا ہے بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ کھیل ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ سے کافی حد تک نکل چکا ہے۔بر وقت درست فیصلے نہ کئے جائیں تو غلطیوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔اس وقت سوال یہ نہیں کہ کون کس کا بازو مروڑ رہا ہے؟سوال یہ ہے کہ اپنے بازو کو طاقتور بنانے کی طرف توجہ کیوں نہیں دی گئی؟اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کچھ کھو دینے کی بجائے باہمی مشاورت سے اپوزیشن جو کچھ بچا سکتی ہے اسے بچایا جائے ورنہ طبلِ جنگ تو بج چکا ہے وفاق کے تیور بتا رہے ہیں وہ جو کہہ رہا ہے کرکے رہے گا۔
Load/Hide Comments


