عمران خان نے لانگ مارچ کی تاریخ دیدی، کارکنوں کو 26 نومبر پنڈی پہنچنے کی ہدایت

لاہور (انتخاب نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 26 نومبرکو پنڈی پہنچنے کا اعلان کرتے ہوئے اپیل کی کہ پی ٹی آئی کے تمام کارکن اورپاکستانی 26 نومبر کو پنڈی پہنچیں۔ لانگ مارچ کے شرکا سے وڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے اِنہیں مارنیکی کوشش کی وہ ابھی بھی وہیں بیٹھے ہیں جبکہ اِن پر 23 ایف آئی آر کاٹی گئیں، ایسے رکھا جیسے وہ غدار ہوں، ایسے ظلم کیا گیا جیسے وہ پاکستانی نہیں، پاکستانی آج نیوٹرل نہ ہوں ورنہ آپ کی نسلیں پچھتائیں گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ غلامی سے بہتر ہے مرجانا، سابق وزیراعظم ہوتے ہوئے ایف آئی آر نہیں کٹوا سکتا، ہمیں معلوم ہے کہ مارنے والے 2 تھے اور سامنے سے گولیاں آئیں، انہوں نے ملزم کو طوطے کی طرح پڑھایا کہ میں اکیلا تھا تاکہ شک نہ پڑجائے اور دوسرے کی تلاش ہونے لگے، اب آپ سے پنڈی میں ملاقات ہوگی، پی ٹی آئی کے تمام کارکن اور پاکستانی 26 نومبر کو پنڈی پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے دور میں 3 لانگ مارچ ہوئے، ہم نے نہ روکا نہ ایف آئی آر کاٹی اور نہ ہی ان کے سامنے کنٹینر رکھے، ہمارے دور میں آئین و قانون جو اجازت دیتا تھا وہ ہم نے دی، مجھے پتہ تھا یہ مجھے مارنے کے لیے پلان بنا رہے ہیں اس کے باوجود نکلا، دلدل سے نکلنے کا حل شفاف الیکشن کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مجھے بلاول کا سیاسی مستقبل نظر نہیں آرہا، بلاول ڈھونڈتا پھرے گا کہ اس کے باپ نے چوری کا پیسا کہاں کہاں رکھا ہے، افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ بھارت کی مثال دینی پڑتی ہے کہ ان کی آزاد خارجہ پالیسی ہے، روس سے تیل خریدنے پر امریکا پہلے بھارت سے ناراض ہوا پھر مان گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کون سی قیامت آگئی تھی کہ ہمیں گرا کر ان چوروں کو بٹھا دیا، کوئی ایک چیز بتائیں کہ انہوں نے7 ماہ میں پاکستان میں کچھ مثبت کیا ہو، باہر کے لوگوں کو ان پر اعتماد ہے نہ ملک میں، دہشت گردی بڑھ گئی ہے ان کے پاس اپنے سوا سوچنے کا ٹائم نہیں، ان کے تو پاکستان میں کوئی مفادات نہیں ہیں، اسٹیبلشمنٹ بتادے 7 ماہ میں حکومتی تبدیلی سے کیا فائدہ ہوا؟ کچھ تو سوچا ہوگا کہ یہ پاکستان کو فائدہ کرائیں گے، شاید ان میں کوئی ایسی صفت ہو جو مجھے نظر نہ آرہی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں