بلوچستان کی معدنی دولت کو نیلام کیا جارہا ہے، خودساختہ قانون سازی کیخلاف 18 دسمبر کو بھرپور احتجاج کریں گے، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ نے ریکوڈک پر صوبائی اور وفاقی خود ساختہ قانون سازی کو بلوچ وسائل کی لوٹ مار تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راتوں رات بل پاس کرکے اٹھارویں آئینی ترمیم اور بلوچستان کے حقوق پر شب خون مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار سمیت قدرتی وسائل کی نیلامی کا سلسلہ حکمرانوں کی منصوبہ بندی ہے جس کا مقصد بلوچستان کے لوگوں کا اختیار اور حق حاکمیت چھین کر انہیں قومی وسائل سے دستبردار کرانا ہے، جسے مسترد کرتے ہیں۔ وفاق نے ہمیشہ بلوچ کی منشا کے بغیر پالیسی سازی کرکے وسائل کو لوٹا ہے۔ اب بھی بیرونی استحصالی کمپنیوں کے ذریعے بلوچستان کی معدنی دولت کو نیلام کیا جارہا ہے۔ چیئرمین بی ایس او نے مزید کہا ہے کہ ترقی اور خوشحالی کا سبز باغ دکھا کر گوادر کو چائنہ کے حوالے کردیا گیا جبکہ سیندک، ریکوڈک، سوئی گیس سمیت بلوچ سرزمین سے نکلنے والی معدنیات کے بدلے بلوچ قوم کو صرف بھوک اور افلاس دی گئی۔ گوادر میں چین کے ساتھ سرمایہ کاری ہورہی ہے لیکن وہاں کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔ اسی طرح 1952ءسے سوئی سے گیس نکالی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب وہاں کے لوگ لکڑیوں سے آگ جلاتے ہیں۔ سیندک اور ریکوڈک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے وہاں رہنے والے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا گیا ہے۔ چیئرمین بی ایس او نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں سیندک کے حوالے سے حکمرانوں کی قانون سازی لوٹ مار کو وسعت دینے کا ایک حربہ ہے جس سے بلوچ عوام بخوبی واقف ہے۔ کھٹ پتلی صوبائی حکومت کے ذریعے راتوں رات بل پاس کروا کر قانون سازی کی گئی اور سب کچھ وفاق کے حوالے کیا گیا۔ یہ معاہدہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کیلئے باعث شرمندگی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک معاہدہ بلوچ قوم کو مزید پسماندہ رکھنے اور قومی ملکیت پر قبضہ گیری کو مزید دوام بخشنے کا ایک منصوبہ ہے، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ دریں اثناءچیئرمین بی ایس او نے بی این پی کی جانب سے 18 دسمبر کو بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے تنظیم کے تمام زونوں کو تاکید کی ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں