نوآبادیاتی دور میں نائجیریا سے لوٹے گئے نوادرات جرمنی نے واپس کر دئیے
ابوجا (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "آج ہم بینن کانسی کے مجسموں کو ان لوگوں کو، نائجیریا کے عوام کو، واپس لوٹانے کے لیے یہاں ہیں، جو اس کے اصل مالک ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم ایک غلطی کو درست کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔”برطانوی نو آبادیات کے ذریعہ سن 1897ء میں لوٹے گئے اور دنیا بھر کے عجائب گھروں میں فروخت کیے گئے 20 بیش قیمت کانسی کے مجسموں کی وطن واپسی کو جرمن وزیر ثقافت کلاوڈیا روتھ نے بھی ایک "تاریخی دن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "ہم وہ چیزیں واپس کرنا چاہتے ہیں جو کبھی ہمارے تھے ہی نہیں۔”یہ بیش قیمت نوادرات جرمنی کے کئی عجائب گھروں میں رکھے گئے 1130چوری شدہ فن پاروں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ کانسی، ہاتھی دانت اور دیگر قیمتی اشیا سے تیار کردہ یہ انتہائی اہم فن پارے جنوبی افریقہ کے اہم فن پاروں میں سے ہیں۔نائجیریا کے وزیر اطلاعات اور ثقافت الحاجی لائی محمد نے خیرمقدمی تقریر کے دوران کہا،”بیس برس قبل حتی کہ دس برس قبل بھی کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کانسی کے یہ بیش قیمت نوادرات واپس آسکیں گے۔ کیونکہ وطن واپسی کی راہ میں ناقابل تسخیر رکاوٹیں حائل تھیں۔ لیکن آج ایک دوست ملک جرمنی کے قابل تقلید سلوک سے پوری کہانی ہی بدل گئی ہے۔”روتھ نے جرمن ٹی وی ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، "نوادرات کی واپسی کا یہ عمل نوآبادیاتی ماضی کی ناانصافیوں کو تسلیم کرنے کے لیے ہے، جس میں قیمتی اثاثوں کی چوری کے واقعات بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ کانسی کے ان بیش قیمت نوادرات کی واپسی "اس ثقافتی شناخت کو واپس لوٹانے کی ایک کوشش ہے جسے ہم نے چرا لیا تھا۔”نائجیریا سن 2023 کے اوائل میں نوادرات کی نمائش کی ایک بڑی تقریب منعقد کرے گا جس میں کانسی کے ان مجسموں کی واپسی کا جشن بھی منایا جائے گا۔نائجیریا کے عجائب گھروں اور تاریخی عمارتوں کے قومی کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ابا عیسی تیجانی نے بتایا، "نائجیریا کے عوام کو واپس کی گئی ان نوادرات کو دیکھنے کی اجازت ہوگی۔ ہماری تاریخ کا ایک حصہ، ہماری شناخت کا ایک حصہ واپس آ رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا،”یہ بلاشبہ میرے لیے ایک انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔” ابوجا میں تقریب سے خطاب کے دوران جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئر بوک نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی نوآبادیاتی ماضی کے دوران لوٹ کھسوٹ میں اپنے کردار پر غور کرے اور ان اشیا کی جلد واپسی میں ناکامی پر توجہ دے۔انہوں نے کہا، "میرے ملک کے اہلکاروں نے یہ جانتے ہوئے بھی کانسی کے مجسمے خریدے تھے کہ یہ لوٹے گئے اور چوری کے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے نائجیریا کی جانب سے ان کی واپسی کی درخواست کو ایک طویل عرصے تک نظر انداز کیا۔ ان نوادرات کو خریدنا بھی غلط تھا اور انہیں اپنے پاس رکھنا بھی غلط تھا۔ "بیئر بوک کا کہنا تھا، "یہ یورپی استعمار کی کہانی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں ہمارے ملکوں نے سیاہ کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے افریقہ کے مختلف حصوں میں کروڑوں افراد کو زبردست مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔”جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئر بوک نے کہا کہ جرمنی نوآبادیاتی ماضی کے دوران لوٹ کھسوٹ میں اپنے کردار پر غور کریجرمن وزیر خارجہ انالینا بیئر بوک نے کہا کہ جرمنی نوآبادیاتی ماضی کے دوران لوٹ کھسوٹ میں اپنے کردار پر غور کرے،جرمن وزیر ثقافت روتھ نے کہا کہ لوٹے گئے مجسموں کو واپس لوٹانا اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ہم یہاں اور اب، جدید آرٹ اورعجائب گھروں کے درمیان تعاون کی بات کریں اور ایک ایسا مشترکہ منصوبہ تیار کریں جو نئے کیمپس کی تعمیر اور آثار قدیمہ کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو۔انہوں نے کہا کہ جرمنی میوزیم کی تعمیر میں مالی مدد اور آثار قدیمہ کی کھدائی میں تعاون کرے گا۔


