مافیاز کی خوشنودی کے خاطر گوادر کے ماہیگیروں کے منہ کا نوالہ اور جمہوری احتجاج کا حق چھینا جارہا ہے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر میر کبیر احمد محمدشہی نے کہا ہے کہ بلوچستان آج سنگین بحرانوں کی زد میں ہے مگر صوبائی حکومت و اسمبلی کا کردار ربڑ کی مہر جیسا ہے۔ بلوچستان میں مصنوعی جماعت کے زریعے صوبائی حکومت کے نام پر جاری پتلی تماشہ مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور اب تو خود اس کے ارکان اپنی مصنوعی پارٹی کی فاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ بلوچستان کو سیاسی تجربہ گاہ بنایا گیا اور اسلام آباد کے ان تجربات اور سیاسی مہم جوئی کی بلوچستان کے عوام بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے اور صوبے کو آئینی اختیارات سے محروم کرکے اپنے مکمل کنٹرول میں رکھنے کی خاطر مقتدر قوتوں نے مصنوعی جماعت اور کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے عوام کے حق رائے دہی اور حق حکمرانی پر شب خون مارا۔ گزشتہ پانچ سال سے بلوچستان مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، تمام طبقات سراپا احتجاج ہیں مگر حکومت کا کرادر صرف اپنے آقاوں کی خوشنودی، اسامیوں کی بندر بانٹ اور فنڈز کی خورد برد تک محدود رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کے عوام میں شدید بے چینی اور احساس بیگانگی پائی جاتی ہے۔ آج سارا گوادر اپنے بنیادی حقوق کی خاطر سڑکوں پر ہے جبکہ حکومت ان کے نہایت بنیادی اور جائز مطالبات پورے کرنے کے بجائے ایک سال تک یقین دہائیوں کے نام پر دھوکہ دہی کرتی رہی اور اب غیرقانونی ٹرالنگ مافیا کی ایماء پر گزشتہ پانچ دنوں سے گوادر میں پرامن مظاہرین کے خلاف بدترین کریک ڈاون کررہی ہے اور اپنے جرائم کو چھپانے کی خاطر گوادر کا مواصلاتی رابطہ تمام ملک سے منقطع کردیا گیا ہے۔ مافیاز کی خوشنودی کے خاطر گوادر کے ماہیگیروں کے منہ کا نوالہ اور جمہوری احتجاج کا حق چھینا جارہا ہے۔ اپنے قیام کا اہم مزموم مقصد پورا کرتے ہوئے کٹھ پتلی صوبائی حکومت نے اپنے آقاوں کی حکم بجاآوری میں نہ صرف ریکوڈک کا سودا کیا بلکہ اس حوالے سے بلوچستان کو حاصل آئینی اختیارات بھی ایک شرمناک قرارداد کے ذریعے مرکز کو تفویض کرنے پر راضی ہوگئی تاکہ ان کے سرپرستوں کو صوبے سے رسمی منظوری لینے کی بھی زحمت نہ کرنی پڑے۔ صوبے کا وسیع علاقہ بالخصوص نصیرآباد ڈویژن سیلاب سے شدید متاثر ہوئے مگر موسم سرما کی آمد کے باوجود حکومت متاثرین کی بحالے کی خاطر کوئی خاطرخواہ اقدام نہیں اٹھا پائی بلکہ متاثرین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ حکومت نے نااہلی، بدانتظامی اور خورد برد کے زریعے صوبے کو دیوالیہ کردیا ہے۔ تعمیراتی کاموں کو آدھا ادھورا چھوڑ دینے سے صوبہ کھنڈرات اور تباہ حالی کا منظر پیش کررہا ہے۔ سریاب روڈ کی توسیع بروقت مکمل کرنے کے بجائے گزشتہ کئی مہینے سے شہر کی اس مرکزی شاہراہ کو خستہ حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے جس کے باعث لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ دوسری جانب صوبے میں ایک دفعہ پھر تیزی سے بدامنی پھیل رہی ہے اور جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حکومت کو بلوچستان کے مفادات اور عوام کی حالت زار سے کوئی سروکار نہیں وہ صرف اپنی کرسیوں سے چمٹ کر بیٹھے ہیں اور سب اچھا ہے کا ورد کرتے ہیں۔ نیشنل پارٹی ہمیشہ عوام کے درمیان موجود رہی ہے اور اب بھی ہم عوام کو کٹھ پتلیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑینگے۔ گزشتہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے زریعے پارٹی کا مینڈیٹ چھینا گیا اور اسمبلیوں میں جانے کا راستہ روک کر پارٹی کو عوام سے دور کرنے کی سازش کی گئی جو مکمل ناکام رہی بلکہ اس عرصے میں عوام کے سامنے اپنے قومی نمائندوں اور کٹھ پتلیوں کے درمیان کا فرق مزید واضح ہوگیا۔ نیشنل پارٹی کی طاقت باشعور سیاسی کارکن اور عوام ہیں اور ہم ہر فورم پر بلوچستان اور بلوچستانی عوام کی حقیقی نمائندگی اور انکے حقوق کا دفاع کرتے رہینگے۔


