بھاگ شہر میں گیس پریشر کی کمی، ایل پی جی اور لکڑیوں کی مانگ بڑھ گئی، انتظامیہ کی چشم پوشی
بھاگ (انتخاب نیوز) بھاگ شہر میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے، پریشر کی کمی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بناکر رکھ دی ہے، شہر میں گیس پریشر اس قدر کم ہے کہ لوگ گیس کے چولہے کے اوپر لکڑیاں رکھ کر کھانا پکاتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ شہر کے کچھ حصوں میں تو گیس بالکل غائب ہے خصوصا ًرات کے کچھ حصوں میں توگیس کو بختیارآباد سے مکمل طور پر بند کیاجاتا ہے جس کی وجہ سے بھاگ شہر میں گیس مکمل بند رہتا ہے کیونکہ سوئی سدرن گیس کے ملازمین جب ان کے جی میں آتا ہے تو وہ وہاں سے گیس پریشر کم کر دیتے ہیں اور جب ان کے جی میں آتا ہے تو گیس وہاں سے بند کردیتے ہیں وہاں بیٹھے ہوئے عملہ محکمہ گیس کو اپنا ذاتی میراث سمجھ بیٹھے ہیں محکمہ گیس کے کچھ آفیسران صرف دکھوائے کیلئے گیس پریشر کمی کے حوالے سے عوام کا شکایت سننے بھاگ شہر کا دورہ کرتے ہیں صرف عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے وہ دورہ کیا گیاہم اس اہم مسلے پر ہرگز خاموش نہیں رہیں گے اکثر وبیشتر گیس غائب رہنے سے لوگ سخت کرب میں مبتلا ہیں لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام اس اہم اور بنیادی مسئلے کو ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ گیس کا غائب رہنما عوامی حقوق غضب کرنے کے مترادف ہے، جبکہ ماہانہ بھاگ شہر سے محکمہ سوئی سدرن گیس کمپنی کو لاکھوں روپے گیس کے بلوں کی مد میں میں ریکوری ملتی ہے، شہری باقاعدگی کیساتھ اپنے گیس کے بل ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ان علاقوں میں گیس مکمل طور پر بند ہے محکمہ گیس کے عملہ کی زیادتیاں حد سے تجاوز کرگئیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ اخباری بیانات کی کوئی حیثیت نہیں ہے جبکہ دوسری جانب وہ شہر میں لوگوں کو منت سماجت کرکے کہتے ہیں کہ ہمارے محکمہ اور ہمارے عملہ کے حق میں اخباری بیانات دیں کہ بھاگ شہر میں گیس پریشر کا کوئی مسئلہ نہیں ، محکمہ گیس کا عملہ اپنے آفیسران اور حکام بالا کو بھاگ شہر کے گیس پریشر کے مطلق گمراہ کررہے ہیں عوامی سماجی حلقوں نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلی حکام سے مطالبہ کیاکہ اگر بھاگ شہر کے گیس پریشر کا مسلہ حل نہ کیاگیا تو ہم عملہ اور آفیسران کیخلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ اس اہم مسلے کو سنجیدگی کیساتھ نہیں لیاگیا تو متعلقہ محکمے کیخلاف احتجاج کے تمام ذرائع استعمال کریں گے۔


