کے پی اور فاٹا میں امن نہیں تو ملک کاکوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہے گا، محمود خان
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ فاٹا میں دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنانا پڑے گی۔اسلام آباد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ گزشتہ 4 سال میں 11 اکنامک زون بنائے گئے تھے جس کی وجہ سے سرمایہ کار آرہے تھے، خیبرپختونخوا میں امن بحال ہوا تو سیاح آرہے تھے ، فاٹا کا انضمام چیلنج تھا لیکن اس مقصد کیلئے ہماری حکومت نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بنایا، جرگوں کو قانونی حیثیت دینے کیلئے اے ڈی آر ایکٹ لائے، فاٹا کے عوام کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت فراہم کی اور تعلیم، صحت سمیت مختلف محکموں میں بھی کام کیا۔انہوں نے کہا کہ فاٹامیں سب کچھ تباہ ہوگیا تھا، اس کی بحالی کے لئے خصوصی توجہ دی گئی، یہاں کی عوام کیلئے خصوصی قوانین بنائے لیکن موجودہ حکومت کو امن و امان سے کوئی سروکار نہیں ہے، یہ صرف کیسز ختم کرانے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اب تک تین سو چھہتر حملے ہوچکے ہیں اور اگر کے پی اور فاٹامیں امن نہیں ہوا تو ملک کاکوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہے گا۔محمود خان نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں فاٹا کے لئے ہمیں 24 ارب روپے ڈویلپمنٹ فنڈز ملے تھے لیکن اس حکومت نے اب تک صرف 5 ارب روپے دیے ہیں، ہیلتھ کارڈز کے لیے بھی خیبرپختونخوا حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت میں ملک کی تاریخ کا بلند ترین ریوینیو ٹورازم کے ذریعے ہم نے پیدا کیا، ہم نے ٹورز کے سیکٹر کو اٹھایا، فیسیلیٹیشن سینٹر بنائے گئے اور خاص طور پر ٹورزم پولیس بنائی لیکن اس حکومت نے نے فاٹا کے فنڈز روکے جس کی وجہ سے ہمیں معاشی مسائل کا سامنا ہے۔


