حکومت کو بڑا دھچکا، عالمی بینک نے 2 قرضوں کی منظوری مؤخر کر دی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی معیشت کیلئے پریشان کن خبر ہے کہ ورلڈ بینک نے 1.1 بلین ڈالر کے 2 قرضوں کی منظوری اگلے مالی سال تک مؤخر کر دی ہے جبکہ درآمدات پر فلڈ لیوی عائد کرنے کی بھی مخالفت کی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے سکینڈ ریزیلینٹ انسٹی ٹیوشن فار سٹسٹینبلیٹی اکنامی(RISE-II) کے 450 ملین ڈالر کے قرض اور سستی توانائی کیلئے دوسرے پروگرام (PACE-II)) کے 600 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری مؤخر کرنے کا فیصلہ پاکستانی حکومت کیلئے ایک بھاری جھٹکا ثابت ہو گا۔ ورلڈ بینک کے ترجمان کے حوالے سے ٹریبیون کا کہناتھا کہ RISE-II پراجیکٹ پر ورلڈ بینک کے بورڈ کی مشاورت کی ممکنہ تاریخ مالی سال 2024 ہے جو کہ یکم جولائی 2023 سے شروع ہو گا اور 30 جون 2024 تک جاری رہے گا ۔ورلڈ بینک کے دستاویزات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سستی توانائی کیلئے دوسرے منصوبے PACE-IIکے قرض کی منظوری بھی ممکنہ طور پر آئندہ مالی سال ہی ہو گی ۔اتحادی حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے کوششیں کر رہی ہے ، ورلڈ بینک کے حالیہ فیصلے نے حکومت کے سالانہ فنانسگ منصوبے کے خلاف 1.5 ارب ڈالر کا خلا پیدا کر دیاہے ۔گزشتہ سال اگست میں آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے قبل ورلڈ بینک نے 300 ملین ڈالر کے خلاکو پُر کرنے کیلئے اپنی قرض کی رقم کو بڑھانے کی رضا مندی ظاہر کر دی تھی ، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ سازی نہ ہونے پر اب یہ تمام کوششیں ضائع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ۔ورلڈ بینک کے ترجمان کا کہناتھا کہ RISE-II کی تیاری جاری ہے اور ورلڈ بینک اصلاحات کے نفاذ کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہاہے ۔موجودہ مالی سال کیلئے حکومت کو امید تھی کہ وہ 30 سے 30 بلین ڈالر غیر ملکی فنانسگ حاصل کر لے گی لیکن اب یہ منصوبے حقیقت کا لبادہ اوڑھتے دکھائی نہیں دیتے ، فنانسگ پلان میں ورلڈ بینک کے 2.9 بلین ڈالر بھی شامل تھے ۔


