پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پی ٹی آئی کا بائیکاٹ ، موجودہ ارکان کی عدم دلچسپی

اسلام آباد:پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد اور علاقہ دارالحکومت اسلام آباد مقامی حکومت ترمیمی بل 2022 ترمیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کرلیاگیا،مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے میں دہشت گردی کوشامل نہ کرنے پر جماعت اسلامی اور سینیٹر میاں رضا ربانی نے اعتراض کرتے ہوئے دہشتگردی کو ایجنڈے میں شامل کرنے کامطالبہ کیا،مشترکہ اجلاس ایک گھنٹے اور 37منٹ تاخیر سے شروع ہوا،کشمیرسے یکجہتی کی قرارداد پر ایک گھنٹہ بحث کرائی گئی ،اسلام آباد میں میئر اور ڈپٹی میئر کا براہ راست الیکشن ختم کردیاگیا،مشترکہ اجلاس میں ممبران کی عدم دلچسپی عروج پر تھی قرارداد پر ارکان کی تقریر کے دوران ممبران پارلیمنٹ آپس میں خوش گپیوں پر مصرف رہے اور کسی نے تقریر کر نے والوں کو سننا گوارہ نہیں کیا۔ارکان پارلیمنٹ کی عدم دلچسپی کے باعث صدرو وزیراعظم آزاد کشمیر بھی قرارداد منظورہونے سے پہلے ہی مہمان گیلری سے اٹھ کرچلے گئے۔مشترکہ اجلاس 13فروری شام 4بجے تک ملتوی کردیاگیا،مشترکہ اجلاس میں ترکیہ شام کے زلزلہ زدگان اور پاکستان میں شہید ،جاں بحق اور فوت ہونے والوں کے لیے الگ الگ دعامغفرت کرائی گئی ۔بدھ کوپارلیمنٹ کا مشرکہ اجلاس 4بج کر 37منٹ پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں شروع ہوا۔سپیکر نے مشترکہ اجلاس میں ترکیہ اور شام کے زلزلہ زدگان کے لیے دعا کرائی ۔مفتی عبدلشکور نے ترکیہ اور شام کے زلزلے سے شہید و زخمی ہونے والوں کے لیے ایوان میں دعا کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں