فوج پرتنقیدکو جرم قرار دینے کی ترمیم پر نظر ثانی کی جائے، رپورٹرز ود آﺅٹ بارڈرزکا مطالبہ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلح افواج پر تنقیدکو جرم قرار دینے کے مجوزہ منصوبے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے فوری ر وکیںکیونکہ اس سے صحافتی آزادی کو شدید خطرہ لاحق ہوگا۔ صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں قانون میں مجوزہ ترمیم کو عوامی اظہار رائے اور صحافتی آزادی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم واضح طور پر مسلح افواج پرکسی بھی قسم کے تبصرے سے روکنے کے لیے بنائی گئی ہے، یہ پولیس کو صحافیوں پر حد سے زیادہ انتظامی اختیارات دیتی ہے۔ رپورٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ مجوزہ نئی ترمیم کے الفاظ مبہم ہیں جس سے صحافتی آزادی کو شدید خطرہ لاحق ہوگا، نئی دفعہ کے تحت کسی بھی شخص کو پولیس بغیر وارنٹ کے پانچ سال کےلئے گرفتار کر سکتی ہے یا اسے دس لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ہوسکتا ہے ۔ پاکستان میں آنیوالے مہینوں میں عام انتخابات ہونے والے ہیں، ایسی ترمیم کو اپنانا جمہوری عمل کی راہ میں سنگین رکاوٹ بن سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ ایڈووکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ محمد آفتاب عالم کا کہناہے کہ حکومت کے ارادے مبہم ہیں انہوں نے رپورٹرز ود آﺅٹ بارڈرز کو بتایا کہ یہ تجویز پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور توہین کے عمل کو مزید مجرمانہ فعل قراردینے کی مہم کا حصہ دکھائی دیتی ہے ۔اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو اس کے عمومی اور خاص طور پر صحافیوں کےلئے آزادی اظہار رائے پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں