لاپتہ افراد کی بازیابی پر کمیشن کی رپورٹ مکمل ہوچکی، پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوگیا، این ڈی ایم

کوئٹہ (آن لائن) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور مرکزی رہنما و ریسرچ اینڈ پالیسی کمیٹی کے سربراہ سابق سینیٹر افراسیاب خان خٹک نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم جس مقصد کے لئے قائم کی اور اقتدار میں آئی تھی وہ فوت ہوچکا ہے ، حکمرانوں کا ملک اور قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آرہا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی معاشی پالیسی ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے سخت شرائط پر پاکستان کو قرضہ دے رہے ہیں اور دوست ممالک بھی مدد کو آئی ایم ایف معاہدے سے جوڑ رہے ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر غیرآئینی ہے ملک اور اداروں کو آئینی طور پر چلاکر مسائل کے حل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے قائم کمیشن کی رپورٹ مکمل ہوچکی ہے جو اگلے ہفتے عدالت میں جمع کرادی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مزمل شاہ ، بلوچستان کے صدر احمد جان ، مرکزی کمیٹی کے رکن ہارون بازئی ، بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اسفند یار خان کاکڑ ، ملک بہار ، رحمت وطن پال ، عنایت شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ محسن داوڑ نے کہا کہ پی ڈی ایم جب معرض وجود میں آئی تھی تو ہمارے ساتھ رابطے کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا اس کے لئے ایک چارٹر بناکر ایک دو ماہ میں انتخابات کرادیئے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہوا کیونکہ موجودہ صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور سیاسی اور معاشی حالات بدل رہے ہیں2 صوبوں کی اسمبلیاں ٹوٹ چکی ہیں ۔ حکومت انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے سے دوسری سیاسی جماعتوں جواز مل رہا ہے جو خطرناک ، غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقہ ہے ہمیں آئین پر عمل کرنا ہوگا نہ کہ دوسروں کے فیصلوں اور عمل کو جواز بناکر غلط کام کریں ، جس طرح ضمنی اور دو صوبوں میں انتخابات کے حوالے سے حالات بنائے جارہے ہیں ۔ آئی ایم ایف ملک کو کڑی شرائط پر قرضہ دینے کے لئے مائیکرو منیجمنٹ کی سطح پر آکر شرائط عائد کررہا ہے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے اگر ایسا ہوا تو حالات مزید خراب ہوں گے اور آئی ایم ایف و دیگر عالمی اداروں کو مزید من مانی کا موقع ملے گا ، اس وقت غریب عوام کو دو وقت کی روٹی چاہیے انہیں کسی اور بات سے غرض نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک بار پھر جنگ کی جانب دھکیلا جارہا ہے جس سے ہم نکلنے کا دعوی کررہے ہیں، تخریب کار خیبر پختونخوا، اسلام آباد، کراچی جہاں چاہتے ہیں حملے کررہے ہیں انہیں مذاکرات کے ذریعے لانے کے لئے دلائل دیئے گئے، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے کردار ادا کرنا ہوگاعوامی نمائندوں اور پارلیمنٹرین کو ملک اور قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کےلئے کردار ادا کرنا ہوگا قانون کی بالادستی سے ہی اداروں میں استحکام آئے گا اور معاملات بہتر ہوں گے۔ ملکی معیشت بہتر ہوگی آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے قرضہ دینے کے لئے مزید کڑی شرائط عائد کررہے ہیں اب تو دوست ممالک بھی مدد کرنے سے کتراتے ہوئے آئی ایم ایف کے معاہدے سے اپنے تعاون کو جوڑ رہے ہیں اگر یہی حالات شدت اختیار کرتے رہے تو ہم مزید مشکلات کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکیں گے۔ افراسیاب خان خٹک نے کہا کہ اگر ہمارا ملک خدانخواستہ دیوالیہ ہوجاتا ہے تو حالات مزید سنگین ہوجائیں گے اور قرضوں کے لئے مزید سخت شرائط عائد کی جائیں گی جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے مختلف اقدامات اٹھاتے ہیں پہلے امریکہ بڑی طاقت تھی اب وہ بھی آہستہ آہستہ پیچھے جارہا ہے ، چین طاقت نے طاقت ور بننے کے لئے ون بیلٹ ون روڈ کے حوالے سے سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے ایک سوال کے جواب میں محسن داوڑ نے کہا کہ افغانستان میں نئی حکومت کے بعد جس طرح حالات بنے ہیں محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ لانچنگ پیڈ کے طور پر پیش کیا جائے گا، اس حوالے سے سیاسی رہنماوں اور لیڈر شپ کو بات کرنی چاہئے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم آر ڈی میں ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کے لئے چارٹر سائن کیا گیا تھا اور اس کے بعد چارٹر آف ڈیمو کریسی تشکیل دیا گیا جس کے توسط سے اٹھارہویں ترمیم کثرت رائے سے منظور کی گئی پی ڈی ایم کو بنانے کے لئے 27 نکات دیئے گئے جن میں سے زیادہ پر عملدرآمد ہی نہیں کیا گیا اگر ان پر عمل ہوتا تو آج گورننس کی صورتحال بہتر ہوتی موجودہ حکمران عوام اور ملک میں درپیش مسائل سے چشم پوشی اختیار کرچکے ہیں اس لئے انہیں ان کے حل سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی کوئی جدوجہد کررہے ہیں ۔ وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں کے وزرا اپنے قائدین کو جواب دہ ہیں نہ کہ وزیراعظم اور عوام کو کہ وہ ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کیا کررہے ہیں ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قائم کمیشن کی رپورٹ کے بارے میں ایک سوال پر افراسیاب خٹک نے کہا کہ مذکورہ کمیشن اپریل 2022 میں چیئرمین سینیٹ کی سربراہی میں قائم ہوا لیکن اس کی پانچ ماہ تک کوئی میٹنگ نہیں ہوئی اور اس کے بعد سردار اختر مینگل کو کمیشن کا سربراہ بنایا گیا جنہوں نے مختلف دورے کئے لواحقین سے ملے اور متعدد اجلاس منعقد کرکے تمام فریقین اور اداروں سمیت لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور سفارشات مرتب کی جس کی رپورٹ اگلے ہفتے عدالت میں جمع کرادی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں