ناقص اشیا خورونوش کی فروخت اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ باعث تشویش ہے، ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ

کوئٹہ (آن لائن) ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان نے اشیائے خور و نوش،ضروریہ کی قیمتوں میں عدم استحکام،گیس پریشر کی کمی،سلو میٹرز چارجز کے بقایہ جات کی وصولی و دیگر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں و محکموں کے حکام کو جلد سفارشات بھیجنے سمیت ان سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔گزشتہ روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے قائمہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سید عبدالاحد آغا اور قائمہ کمیٹی برائے سوئی سدرن گیس کمپنی کا اجلاس چیئرمین جمعہ خان بادیزئی کی زیر صدارت منعقد ہواجن میں کمیٹی ممبران نے شرکت کی۔پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر ممبران کی جانب سے دئیے گئے تجاویز اور سفارشات کو کمیٹی چیئرمین سید عبدالاحد آغا نے سراہا اور کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کی جانب سے نا صرف تحریری سفارشات بھیجی جائیں گی بلکہ ضلعی انتظامیہ و دیگر کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں آگاہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ پرائس کنٹرول کمیٹی میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونا قابل حیرت ہیں بلکہ ہمیں اشیائے خوردونوش و ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام نہ ہونے پر بھی تشویش ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اشیائے خوردونوش و دیگر کے غیر معیاری ہونے پر بھی تحفظات ہیں،انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن میں سبسیڈائز آئٹمز کی عدم دستیابی نیک شگون نہیں اس کی وجہ سے غریب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔قائمہ کمیٹی برائے سوئی سدرن گیس کمپنی کے چیئرمین جمعہ خان بادیزئی و دیگر کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں صارفین کو گیس پریشر کی کمی اور لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جس سے ان کی کاروباری اور گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہیں انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود کمپنی کی جانب سے صارفین کو بتائے بغیر ان کے میٹرز اتار کر انہیں ٹیمپر قرار دیا جاتا ہے یہی نہیں سلو میٹر چارجز کے عدالت عالیہ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیئے جانے کے باوجود ان کی بقایہ جات بلوں میں صارفین کو بھیجی جا رہی ہے جو مایوس کن ہے سوئی سدرن گیس کمپنی کی قائمہ کمیٹی صارفین اور کمپنی کے مابین پل کا کردار ادا کرے گی انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے اراکین جلد جنرل منیجر سوئی سدرن گیس کمپنی سے ملاقات کر کے انہیں صارفین کی مشکلات سے آگاہ کرے گی بلکہ کمپنی کو درپیش مشکلات بھی معلوم کرے گی ہماری کوشش ہوگی کہ صارفین اور کمپنی ملازمین دونوں کو ریلیف مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں