بلوچستان میں ویٹرنری ڈاکٹرز کیلئے نئی پوسٹوں کی منظوری دی جائے، ڈاکٹر جاوید بلوچ

کوئٹہ : بلوچستان بے روزگار لائیو سٹاک ویٹرنری ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جاوید بلوچ ،فنانس سیکرٹری ڈاکٹر نصراللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ویٹرنری ڈاکٹرز کیلئے نئی پوسٹوں کی منظوری دی جائے تاکہ بے روزگارپڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگارکے مواقع میسر آسکیں ۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو ڈاکٹرفرید بلوچ ،ڈاکٹر مختیاراحمداوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہاکہ اسوقت بلوچستان میں 1500سے زیادہ ویٹرنری ڈاکٹرز فارغ التحصیل ہیں اوگر بے روزگاری کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ہر سال ملک کے مختلف تعلیمی اداروں سے تقریباً 150سے 200کے قریب ڈاکٹرز فارغ ہوتے ہیں ان بے روزگار ڈاکٹرز میں ایسے ڈاکٹر بھی شامل ہیں جو 2006-07میں فارغ التحصیل ہوئے اور ان میں سے اکثر اوور ایج ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگار ڈاکٹرز کیلئے 500پوسٹ کی ڈیمانڈ کی گئی تھی لیکن حکومت نے 2018-19کے بجٹ میں صرف150پوسٹوں ک منظوری دی جبکہ 2019ءکے بعدکوئی پوسٹ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں مالداری کا کافی سپیس موجود ہے بلوچستان میں 150کے قریب سی وی ایچ اور1000کے قریب ڈسپنسری موجود ہیں جبکہ بلوچستان میں جانوروں کی کثیر آبادی کے 10سے 15فیصد جانوروں کو بمشکل صحت کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں بلوچستان میںجانور ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کی کمی ہے جس کی وجہ سے وباءاوردیگر امراض کی وجہ سے مال مویشی مر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر بے روزگار ویٹرنری ڈاکٹرز کو روزگار کی فراہمی کیلئے ویٹرنری ڈاکٹرز کی نئی پوسٹوں کی منظوری دے تاکہ بلوچستان میں بے روزگاری کے خاتمے میں مدد مل سکے اگر حکومت نے نئی پوسٹوں کی منظوری نہیں دی تو بلوچستان بے روزگار لائیو سٹاک ویٹرنری ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سخت احتجاج پر مجبور ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں