بلوچستان تعلیمی بورڈ کی تباہ حالی، طلبہ کا مستقبل تاریک، امتحانی نتائج بااثر شخصیات کے ہاتھ

کوئٹہ (آن لائن) باخبر ذرائع کے مطابق بلوچستان بورڈ کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔ بلوچستان بورڈ کی تباہی کا یہ حا ل ہے کہ میٹرک کا امتحان 3 مارچ سے شروع ہورہا ہے۔ ابھی تک ریگولر طلبا کو رولنمبر سلپ نہیں ملے۔ نجی طلبا کا کیا حال ہوگا، لوگ بورڈ آفس میں پریشان ہورہے ہیں، کنٹرولر گزشتہ 15 دن سے غائب ہے پندرہ سال گزارنے کے باوجود مزید ایکسٹینشن مانگ رہا ہے اور 15 ہزار پر ٹیچروں کی امتحانی سینٹروں کی ڈیوٹیاں لگا رہا ہے اور منسٹر کو دے رہا ہے، یہاں تک بات پہنچ چکی ہے کہ منسٹرز اور ایم پی اے حضرات اپنے حلقے کی اساتذہ کے لسٹیں منسٹرآفس پہنچاتے ہیں کہ ہمارے حلقے سے ان اساتذہ کا امتحانی ڈیوٹی لگائیں۔ ہر امتحان کے رزلٹ پر منسٹر اور اس کا عملہ اسی طرح اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔راتوں رات رزلٹ تبدیل ہوجاتاہے غریبوں کی اب بورڈ کی رزلٹ سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے چیئرمین بورڈ مبینہ طور پر ایک کروڑ سے ذیادہ رقم اپنے پوسٹنگ پے دی چکا ہے اب ان کو پورا کرنے کیلئے بورڈ میں دن بدن پوسٹیں نکال رہے ہیں۔اور25 لاکھ پر بیچ رہے ہیں اور لوگ بورڈ میں دڑادڑ کپا رہے ہیں۔ہم چیف جسٹس اور چیف سیکرٹری سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کے خلاف انکوری کر کہ پوری طو پر فارغ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں