بلوچستان ہائیکورٹ نے مولانا ہدایت الرحمن کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی
کوئٹہ:چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جناب جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل بینچ نے فوجداری ضمانت کی درخواست پر حکم سناتے ہوئے درخواست گزار مولانا ہدایت الرحمن کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست خارج کر دی۔درخواست ایف آئی آر نمبر233/2023 کی ضمن میں جمع کروائی گئی تھی۔ایف آئی آر کے مطابق مورخہ 27 دسمبر2022 کو درخواست گزار مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں ”حق دو تحریک” کی ریلی نکالی گئی.درخواست گزار کے اکسانے /للکارا پر ان کے ساتھی اور حق دو ریلی کے ممبر ماجد جوہرولد حیدر (شریک ملزم) نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ڈیوٹی پر موجود پولیس کانسٹیبل یاسرعلی گردن پر گولی لگنے سے زخمی ہوا اور بعدازاں ہسپتال پہنچنے سے قبل جاں بحق ہوگیا۔درخواست گزار مولانا ہدایت کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواست انسداد دہشتگردی عدالت گوادر نے پہلے ہی 14فروری 2023 مستردکر چکا ہے لہذا درخواست گزار نے معزز عدالت عالیہ سے ضمانت کی درخواست کے ذریعے رجوع کیا معزز عدالت عالیہ نے درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل اور درخواست گزار کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ عینی شاہد پولیس کانسٹیبل کے C.R.P.C161بیانات اور ساتھ ہی گرفتار شریک ملزم حفیظ کیا زئی ولد عبداللہ (درخواست گزار کا ساتھی/ حق دو تحریک کے جلوس میں شریک) کے انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ درخواست گزار کے اکسانے اور ترغیب پر مورخہ 27 دسمبر2022 کو حق دو تحریک کا جلوس تشدد میں تبدیل ہوا اور درخواست گزار کے اکسانے پر شریک ملزم ماجد جوہر نے اپنے پستول سے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پولیس کانسٹیبل یاسرعلی جاں بحق ہوا معززعدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک پولیس کانسٹیبل کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی ایک سیاسی کارکن یا سیاسی لیڈ ر کی اور شریک ملز م حفیظ کیازئی کے انکشاف کو ضمانت کے مرحلے پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا معزز عدالت نے مزید کہاکہ آئین کے آرٹیکل 17,16اور19کے تحت اجتماع، وابستگی اور اظہار رائے و تقریر کی آزادی دی گئی ہے لیکن یہ آزادی آئین قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پولیس افسران/ممبران کی زندگی اور عوام اور املاک کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والے کسی جرم یا کسی تشدد کی ضمانت نہیں ہے اور ریکارڈ پر ابتک دستیاب۔مواد کی عارضی جائزہ سے درخواست گزار بظاہراس غیر ضمانتی جرم میں ملوث نظرآتا ہے لہذاسے بعد از گرفتاری ضمانت کی رعایت نہیں دی جاسکتی ہے معزز عدالت نے ان دلائل کی روشنی میں درخواست خارج کر دی۔


