حب میں سرمایہ کاری پر کسی کے تحفظات پر ہیں تو بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے ،چنگیز جمالی

حب(نمائندہ انتخاب )پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر میر چنگیز خان جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں الیکشن کی باتیں چل پڑی ہیں لیکن الیکشن کی تیاریاں پوری نہیں ہیں ،بلوچستان حکومت کی جانب سے گوادر میں کوئی کام نہیں ہو ا البتہ چین نے بہت سے کام کروائے ہیں حب میں اگر کوئی انویسٹر آرہے ہیں اور سرمایہ داری کرنا چاہتے ہیں فیکٹری لگا رہے ہیں تو اس پر کسی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اگر کسی کو خدشات وتحفظات ہیں تو مل بیٹھ کے بات کی جاسکتی ہے ہے سردار محمد صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی سے اچھے تعلقات ہیں ،حب میں لگنے والی سیمنٹ فیکٹری میں 51فیصد شیئر حکومت بلوچستان کا ہوگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کی شب حب کے قریب ایک پیٹرول پمپ کے احاطے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا پریس کانفرنس میں PPPحب کے صدر علی حسن زہری نے بھی خطاب کیا میر چنگیز خان جمالی نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ سابق صدر آصفعلی زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر الیکشن مہم کے سلسلے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں کا دورہ شروع کیا ہے نصیرا ٓباد سے لیکر کوئٹہ،پنجگور ،تربت اور گوادر کا دورہ مکمل کر چکے ہیں اور آج حب آئے ہیں اور ہمارا مقصد ممبر سازی مکمل کرنا ہے اور الیکشن کی بھی تیاری کرنا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں مردم اور خانہ شماری مہم شروع بھی شروع ہو چکی ہے اس حوالے سے مکران ڈویژن کے لوگوں کے کافی تحفظات تھے اور دیگر علاقوں میں بھی ایشوز سامنے آئیں گے کیونکہ مردم شماری ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے آنے والے وقت میں اسی مردم شماری کے تحت ہمارے نمائندے منتخب ہونگے اور ترقی ہوگی مردم شماری سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے اور ساتھ ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سروے بھی شروع ہوچکا ہے جس میں عمران خان نے بعض خواتین کے کارڈ بلاک کئے تھے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں الیکشن کی باتیں چلی رہے ہیں لیکن الیکشن کی تیار ی پوری نہیں ہے جب تک مردم اور خانہ شماری مکمل نہیں ہونگی آنے والا الیکشن بے مقصد ہوگا انہوں نے کہاکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ٹاسک دیا ہے کہ آنے والے وقت میں بلوچستان میں وزیر اعلیٰ جیالا ہو گا اس حوالے سے اپنی محنت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ورکروں اور جیالوں کو بھی ایکٹیویٹ کر رہے ہیں انشاءاللہ صوبے اور مرکزی میں پیپلزپارٹی آئے گی انہوں نے کہاکہ سیاست میں کوئی چیز ختم نہیں ہوتی وقفے وقفے سے چیزیں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں پیپلزپارٹی کے سب کےلئے دروازے کھلے ہیں آنے والے وقت میںلوگ پیپلزپارٹی میں آجائیں گے اور انہیں ویلکم کرینگے اور انہیں اپنے تنظیم سازی اور سسٹم میں لارہے ہیں انھوں نے کہاکہ گوادر میں بلوچستان حکومت اتنا کام نہیں کر سکی جب سے چائنا آیا ہے ائیر پورٹ بن رہا ہے ٹیکنیکل کالج تعمیر ہو رہا ہے یونیو رسٹی میڈیکل کالج بن رہے ہیں روڈ ہیں پینے کے پانی کا مسئلہ ہو چکا ہے اور بجلی ایران سے فراہم کی جارہی ہے علاقہ ترقی کر رہا ہے اگر حب کے لوگ ترقی نہیں چاہتے تو یہاں پر بھی انڈسڑیز کو بند کیا جائے یہاں پر بلوچستان کے لوگوں کو ہی روزگار مل رہا ہے اگر حب میں کوئی نئے انویسٹر اور پروجیکٹس آرہے ہیں اس میں بلوچستان حکومت کی 51فیصد شیئر ز شامل ہیں پھر ہمیں گھبرانے کی کیا ضرور ت ہے یہاں پر اسپتال ایجوکیشن لیبر انفرااسٹرکچر پینے کا پانی اور حب اور لسبیلہ کے لوگوں کو روزگار ملے گا باہر سے کوئی نہیں آئے گا اگر ہمارے دوستوں کو کوئی خدشات و تحفظات ہیں ان سے بطور صدر پیپلزپارٹی بلوچستا ن ان سے درخواست کرتاہوں کہ آئیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں اگر کسی کے ساتھ غلط فہمی ہے اور زیادتی ہے تو اس پر بات کی جاسکتی ہے اگر علاقے میں ترقی آرہی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں انہوں نے کہاکہ سردار محمد صالح بھوتانی میر ے بزرگ اور چچا ہیں اور اسلم بھوتانی بھی ہمارے ساتھی دوست ہیں ہم نہیں چاہتے ہیں کہ بلوچ معاشرے میں اس قسم کی کوئی بدنظمی پیدا ہو وہ علاقے کے معتبرین اور بڑے ہیں مجھ سے جو بھی کردار ہو گا اپنا کردار کرونگا اس معاملے پر حکومت بلوچستان ،لوکل گورنمنٹ اور سردار محمد صالح بھوتانی اور محمد اسلم بھوتانی آکر بیٹھے اگر کسی کے ساتھ مسئلہ یا زیادتی ہے ہیں تو میڈیا پر کیوں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں بیٹھ کر بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں علاقے اور لوگوں کے بھلائی کےلئے ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے مل بیٹھ کر مثبت سوچ کے ساتھ معاملات کو حل کرنا چاہئے ہم کسی کے ساتھ اختلافات نہیںرکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں علاقے میں ڈیولپمنٹ ہو جس کے بھی خدشات ہیں مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی ڈسٹرکٹ حب کے صدر میر علی حسن زہری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ محمد اسلم بھوتانی کہتے ہیں ٹھٹھہ فیکٹری کی تعمیرغلط ہے ہم ان سے یہ پوچھناچاہتے ہیں کہ کس نے کون سی زمین پر قبضہ کیا ہے کہاں سے غلط الاٹ کرائی گئی ہے انھوں نے کہاکہ ڈی جی خان ،اٹک سیمنٹ بھی ہے انھوں نے کول پاور کے خلاف جلسے جلوس کئے بعد میں اس معاملے پر خاموش ہو گیا اور وہ 15ہزار ایکڑ اراضی کی بات کر رہے ہیں کسی کو پتہ نہیں ہے کہ زمین کس کی ہے اور کہاں ہے انھوں نے کہاکہ وہ پندرہ دن بعد اسلم بھوتانی کے خلاف کیس فائل کر رہے ہیں انھوں نے کہاکہ ٹھٹھہ سیمنٹ فیکٹری میں 51فیصد شیئر بلوچستان حکومت کے ہیں دیگر فیکٹری لگی ہیں تو ٹھٹھہ سیمنٹ بھی لگے گی انھوں نے کہاکہ اسلم بھوتانی ہمارے بڑے ہیں اللہ پاک انہیں سمجھ اور صحت دے دے ان سے شکوہ ہی کر سکتے ہیں اور بھوتانی برادران 70کروڑ روپے کے فنڈ لائے کہاں لگائے یہ ان سے بھی پوچھا جائے انھوں نے کہا کہ میں نے اگر 60کروڑ روپے کے فنڈ منظور کرائے اپنے ذات کےلئے نہیں لائے فنڈ ز منظور کرانے کا مقصد یہ تھا کہ علاقے کی سڑکیں تعمیر ہوتی اسکول بن جاتے پانی کا مسئلہ حل ہو تا سیوریج لائن کی بہتری کےلئے تھے انہیں منسوخ کروایا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں