بلوچ خواتین پر ریاستی جبر کے عنوان سے 8 مارچ کو کوئٹہ میں احتجاج ہوگا، بلوچ یکجہتی کمیٹی

کوئٹہ (پ ر) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شال کوئٹہ میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بلوچ خواتین سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہیں جنہیں ایک مخصوص طبقہ نہیں بلکہ ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ سیکورٹی فورسز، خفیہ ادارے، ڈیتھ اسکواڈ سمیت ریاستی پشت پناہی میں سردار و نواب بلوچ خواتین کو ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ حالیہ دنوں سی ٹی ڈی نے شال سے ماحل بلوچ کو پہلے جبری طور پر گمشدہ کیا پھر عوامی ردعمل کے خوف سے اسے منظرعام پر لاکر جھوٹے الزامات لگائے گئے جو تاحال سی ٹی ڈی کی غیرقانونی حراست میں ہے۔ ماحل پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ریاستی پالیسی ہیں۔ ماحل کا واقعہ پہلا نہیں بلکہ گزشتہ پانچ سال سے باقاعدگی سے ریاستی پالیسی کے تحت بلوچ خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے تحت اب تک سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ خواتین متاثر ہوچکی ہیں۔ بلوچ خواتین کیخلاف ناروا ریاستی سلوک، خواتین کی جبری گمشدگی، ماحل بلوچ کی غیرقانونی حراستی قید و بند، اجتماعی سزا کے تحت بلوچ خواتین کو نشانہ بنانے کیخلاف خواتین کی عالمی دن کے مناسبت سے بلوچ خواتین پر ریاستی جبر کے عنوان سے شال کوئٹہ میں احتجاج اور میڈیا میں مہم چلائی جائی گی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ آج دنیا کے مختلف علاقوں میں خواتین کو مختلف مسائل کا سامنا ہے کہیں اسے سماجی بندشوں کا سامنا ہے کہیں ان پر تعلیم حاصل کرنے کی پابندیاں عائد ہیں تو کئی علاقوں میں انہیں سماجی نہ برابری اور عدم مساوات کا سامنا ہے جبکہ کئی علاقوں میں انہیں تمام حقوق سے یکسر طور پر محروم کر دیا گیا ہے لیکن بلوچستان میں خواتین کے مسائل مختلف ہیں جہاں سماج اور معاشرے کے ساتھ ساتھ انہیں ریاستی جبر، وحشت اور اجتماعی سزا کا سامنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت بلوچ خواتین کو سب سے زیادہ ریاستی جبر اور وحشت کا سامنا ہے جس کیخلاف بلوچ قوم کو اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے بیان کے آخر میں شال میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر بلوچ خواتین پر ریاستی جبر کے عنوان سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جس میں ماحل و دیگر لاپتہ بلوچ خواتین کو اجتماعی سزا سمیت خواتین کو درپیش تمام مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔ اس سیاسی جدوجہد میں تمام طبقہ ہائے فکر سے شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں