نجی مسلح گروہوں کے حوالے سے پالیسوں پرنظرثانی کی جائے،تربت میں سانحہ ڈنک کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

تربت ;تربت، ڈنک میں ڈکیتی کے دوران ماں کوقتل اور بچی کو زخمی کرنے کے خلاف میں احتجاجی ریلی اور فدا شہید چوک پرمظاہرہ، ریلی اور مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی ہزاروں کی تعدادمیں شرکت، شدید گرمی کے باعث ایک خاتون اور بچی بے ہوش، ریلی شہید خاتون ملک ناز کے گھرڈنک سے موٹرسائیکل اورگاڑیوں کے قافلے کی شکل میں شہر کے مضافتی علاقوں سے گشت کرتے ہوئے فدا شہید چوک پر آپہنچی،ریلی اور مظاہرہ آل پارٹیز کیچ اور اہلیان ڈنک کے زیراہتمام کیاگیا، مظاہرین سے نیشنل پارٹی کے سینیٹرمحمداکرم دشتی،جے یوآئی کے صوبائی نائب امیرخالدولید سیفی، آل پارٹیزکے کنونیئر اور بی این پی عوامی کے رہنماخلیل تگرانی، بی این پی کے سید جان گچکی،پی این پی عوامی کے خان محمد جان گچکی،جماعت اسلامی کے غلام یاسین،کیچ بار کے مجید دشتی، کیچ سول سوسائٹی التاز سخی،مسلم لیگ ن کے نواب شمبے زئی، شہیدملک نازبی بی کی بہمن صبیرہ بلوچ اور دیگررہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈنک تربت واقعہ میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ ڈنک واقعہ بلوچی غیرت پر حملہ ہے شہید ہونے والی خاتون صرف برمش کی نہیں پورے بلوچستان کی ماں ہے, یہاں کی سیاسی پارٹیاں اور عوام جانتی ہیں کہ تربت سمیت مکران میں پرائیویٹ مسلح افراد کو کن کی پشت پناہی حاصل ہے،واقعے میں ملوث مبینہ مرکزی کردار کوبھی گرفتار اور فیملی کوانصاف فراہم کیاجائے اور آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں اسکے تدارک کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکمت عملی تیار کر لینی چایئے انھوں نے کہا کہ کیچ میں دندناتے مسلح سماج دشمنوں کے شر سے کوئی بھی شہری محفوظ نہیں ہے ڈنک واقعہ سے پہلے بھی گھروں میں ڈکیتیاں کی گئیں گن پوائنٹ پر ماؤں و بہنوں کے زیوارت اور گھر میں موجود جمع پونجی لوٹے گئے انکے ملزمان گرفتار کیئے گئے لیکن انکو سزا ئیں نہیں ہوئیں جس سے انکو شے مل گیا اور وہ دوبارہ اپنے غلط ارادوں کو لیکر سرگرم ہوئے جس کی واضح مثال ڈنک کا واقعہ ہے اگر انکو سزائیں ملتیں اورانکی سرکوبی کی جاتی تو ڈنک کا واقعہ پیش نہ آتا ڈنک کا واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منہ پر تماچہ ہے انھوں نے کہا کہ برمش اور اسکی خاندان خود کو تنہا نہ سمجھے تربت سمیت بلوچستان کی سیاسی پارٹیاں اور عوام انکے ساتھ ہیں,صوبہ کے عوام کی حفاظت اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے بہت ہیں, پرائیویٹ مسلح گروہوں کی شہروں میں کیاضرورت ہے مقررین نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ برمش کو انصاف فراہم کیا جائے,اور نجی مسلح گروہوں کے حوالے سے اپنی پالیسوں پرنظرثانی کی جائے اگر حالات اسی طرح قانون کی گرفت سے باہر ہوتے ہوتے گئے عوام کو جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا تو عام شہری اپنی حفاظت کیلئیبندوق اٹھانے پر مجبور ہوگاانھوں نے کہا کہ آل پارٹیزکیچ ریاست کی نہیں چور اور ڈاکوؤں کیخلاف ہے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کی تحفظ کو یقینی بنائے اور جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کرے تاکہ عام شہری اپنے گھروں میں چھین کی نیند سو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں