باچاخان عظیم شخصیت تھے، بلوچستان میں بلوچ اور پشتونوں کو غدار قرار دینا عام بات ہوگئی، اسلم بھوتانی

حب : لسبیلہ گوادر سے رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ باچاخان ایک عظیم شخصیت تھے اور انسانیت پریقین رکھتے ان کا فلسفہ قوموں متحد کرنا اور اپنی حقوق کےلئے منظم انداز میں جدوجہد کا درس دیتا تھا وہ متشددانہ ریوں کو پسند نہیں کرتے تھے آج کل غداری کے سرٹیفکیٹ دینا عام سی بات ہوگئی حقوق کے جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں حق کے لئے سر کٹاسکتے جھکا نہیں سکتے کچھ لوگ دوسروں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز لیڈا آڈیٹوریم میں باچا کے حوالے منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا اسلم بھوتانی نے کہا کہ باچا خان ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے اور انسانیت پر یقین رکھتے تھے، ان کا فلسفہ قوموں کو متحد کرنے کے لئے ایک عظیم پیغام تھا وہ متشددانہ رویوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھنے کے لئے زور دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان نے جن قوتوں کا مقابلہ کیا اور قیدوبند کی صوبتیں برداشت کی ہمیں ان قوتوں کا محتاج نہیں ہونا چاہیے ہمیں عوام کی طاقت پر بھروسہ ہونا چاہئے کیوں وہ ہمیں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے لئے منتخب کرتی ہے اور میں نے دیکھا ہے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں جاتے ہیں ان مزا اور ہے انہوں نے کہا کہ باچا خان نے ہمیں متحد ہونے کا درس دیتے تھے لیکن ہم ٹولیوں کی شکل تقسم ہیں اس لئے ہمیشہ مار کھاتے ہیں انہوں نے کہا کہ آجکل لوگوں کو غدار ڈکلیئر کرنا اور سرٹیفکیٹ دینا عام سی بات ہوگئی ہے بلوچ اور پشتون اقوام کو اس سرٹیفکیٹ کے زیادہ حقدار ٹھہرایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ قومیں جب متحد ہوتے ہیں تو وہ مضبوط کے قوم طورپر ابھرتے اور ان کا مقابلہ دنیا کا کوئی طاقت نہیں کرسکتا ایران کی مثال ہمارے سامنے ہیں ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن ایرانی عوام متحد ہے اور امریکہ جیسی طاقتور ملک ان کو کچھ نہ کرسکا اب تو سعودی عرب بھی ایران سے مفاہمت کے خواہاں ہے انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے والد اس وقت محمد علی جناح کے ساتھ تھے آج قاضی فائز عیسیٰ کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر وہ ثابت قدمی تمام مصائب کا سامنا کیا اور سرخروح ہوگئے لیکن ہمارا یہ دوہرا معیار ٹھیک نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ستر فیصد بلوچ اور پشتون آبادی ہے وہ کوسٹل ہائی وے اور آرسی ڈی ہائی وے پر چمن سے لیکر حب تک سفر کرتے ہیں ناکہ کھارڑی چیک پوسٹ کراچی کی حدود میں قائم چیک پر ان کی تذلیل کی جاتی ہے اس رویے کو بلوچستان کے عوام برداشت نہیں کریں گے، ان کی نفرتیں بڑھیں گی۔ نہوں نے کہا کہ کراچی کے حدود قائم سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ہمارے لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے کراچی جاتے ہوئے ان کے ہاتھ کھڑا کرکے ان جامعہ تلاشی لی جاتی ہے اور تذلیل کی جاتی ہے اس مسئلے کو قومی اسمبلی کے فورم پر اٹھایا اور آرمی چیف کی دورہ گوادر کے دوران بھی ان کو گوش گزار کی تھی انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ دوسروں کا آلہ کاربن کر دشمنیاں بڑھارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے ہم سر کٹا سکتے ہیں جھکا نہیں سکتے ہماری سیاست کا محور عوام کی خدمت ہے جو کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں کچھ اژدیا گروپ کی شکل میں آرہے ہیں وہ قلم اور آئین قانون کی زبان کو نہیں سمجھتے ان کے لئے تلوار رکھنا ضروری ہے میں لفظ کچھ اور کہنا چاہتا تھا تلوار مہذب لفظ ہے اس لئےےتلوارساتھ ہونا چاہئے کیونکہ اپنی قوم اور دھرتی کا تحفظ بھی تو کرنا ہے اگر ہم اس کو آئین اور قانون کا کتاب دکھاتے رہیں گے تو یہی کہے گا کہ میں ان پڑھ ہوں تو ان پڑھ کو ہم اسی زبان میں جواب دیں گے جس طر ح وہ آتے ہیں ہماری پہلی ترجیح قلم کتاب آئین اور قانوں ہےاس پر عمل کرنا ضروری ہے لیکن اگر کوئی اس کی زبان نہیں سمجھتا تو احتیاطا تحفظ کے لئے تلوار رکھنا ضروری ہوگا اگر ہم اس خام خیالی میں رہیں گے تو وہ ہمیں مٹا دیں گے ہمارے قبرستان کھود مردے اکھاڑ دیں گے اور ان ہڈیاں بیچ دیں گے ہم اپنی سرزمین کو بچانے کی کوشش کریں گے انہوںنے کہاکہ میں قوم پر ست ہونے کا دعویدار نہیں ہوں لیکن اس حد تک ضرور قوم دوست ہوں جو میرے حلقے کے لوگوں قوم صوبہ اور ملک کے ساتھ نااصافی کرے گا اس کے خلاف آواز اٹھانا میرا فرض ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں