ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے طبقے کو ٹیکس چھوٹ کیلئے بل لایا جارہا ہے، ایف بی آر
اسلام آباد : چھوٹے کاروباری، عام آدمی، بپلک ٹرانسپورٹ اور ڈپلومیٹ پر ٹیکس کو کم کرنے کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے۔ گزشتہ بجٹ کے بعد غیر ضروری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب جانے والے طبقہ کو ٹیکس چھوٹ کے لئے بل لایا جارہا ہے۔ ٹیکس حکام نے قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ بجٹ کے بعد آرڈیننس لانا پڑا جس کی زد عام آدمی بھی آگیا جسے ریلیف دیا جارہا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا دوسرا اجلاس کنوینر کمیٹی برجیس احمد طاہر ایم این کی سربراہی میں ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی وجیہہ قمر اور انجینئر صابر حسین قائمخانی کے علاوہ چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد، ممبر ایف بی آر آئی آر پالیسی آفاق احمد قریشی اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کا ون پوائنٹ ایجنڈا ٹیکس قوانین ترمیمی بل ۲۰۲۲ پر بحث تھا۔ جس پر بریفنگ دیتے ہوئے آفاق احمد قریشی نے بتایا کہ چھوٹے کاروباری اور ڈپلومیٹ کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ بھی ٹیکس قوانین کے تحت بھاری ٹیکس تلے دب گئی تھی، جسے کے خاتمے کے لئے موجودہ بل لایا جارہا ہے۔ فکس ٹیکس کی وجہ سے بھی عام آدمی اور چھوٹے کاروبار پر بوجھ بڑھ گیا تھا جسے اس بل کے ذریعے کم کیا جائے گا۔ ایم این اے صابر حسین قائمخانی نے کہا کہ بعض کاروبار میں منافع کی شرح اس قدر زیادہ نہیں ہے تاہم ٹیکس بہت زیادہ ہیں۔ جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریبات بھی جاری ہیں جس کی وجہ سے کمیٹی کی آئندہ میٹنگ آنے والے دنوں میں رکھی جائے۔ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ وہ صبح ساڑھے سات بجے دفتر آجاتے ہیں۔ آئندہ میٹنگ جب رکھی جائے حاضر ہونگے۔ جس پر اگلی میٹنگ منگل صبح نو بجے رکھی گئی ہے۔


