اربوں روپے کی کھاد اور چینی کا گوداموں میں ذخیرہ،عوام کارروائی کے منتظر
حب(نمائندہ انتخاب ) چینی یوریا افغانستان اسمگلنگ بلوچستان کسٹم کے نئے چیف نے افسران واہلکاروں کی ری شفلنگ کردی ،بااثر اور من پسند اہلکار وآفیسر ان کی اب بھی موجیں سیاسی اثر ورسوخ نہ رکھنے والے اہلکاروں کو دربدر کردیا گیا حب میں چینی اور کھاد کے گوداموں میں اربوں روپے کا مال ذخیرہ ہے لیکن کسی مائی کے لعل میں ہمت نہیں کہ کاروائی کرے بلوچستان پولیس نے تو حد ہی کردی کہ پوری چینی کی کہانی کی لنکا حب کے ایک SHOپر ڈھا دی ٹرانسفر کئے گئے اہلکار رمضان المبارک کے آخری ایام اور عید الفطر بھی اپنے گھروں پر نہیں گزار سکیں گے جبکہ بااثر موجیں اُڑائیں گے اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ ملک میں چینی یوریا اسمگلنگ کے قصے کے سراٹھاتے ہی نہ صرف بلوچستان کے چیف کسٹم کلیکٹرکا تبادلہ کرنے کے بعد نئے کسٹم چیف نے صوبے کے افغانستان سے ملحقہ سرحدی چیک پوسٹوں پر مختلف لاءاینڈ فورسمنٹ ایجنسز کے ہمراہ کسٹم اہلکاروں کی تعیناتی کو یقینی بنانے کےلئے بارڈر ایریاز کی مشترکہ چیک پوسٹوں سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں موجود کسٹم ہلکاروں کی ری شفلنگ کی ہے جو کہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن یہاں پر صوبائی دار الحکومت کوئٹہ سمیت دیگر کسٹم کلیکٹریٹ کسٹم ہاﺅسز میں تعینات متعلقہ برانچزکے ہیڈز نے نہ صرف ایک ماہ قبل نئے بھرتی ہونے والے سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد سمیت سیاسی اور مالی اثر ورسوخ نہ رکھنے والے افسرن واہلکاروں کے ناموں پر مشتمل فہرستیں حتمی منظوری کے بعد مذکورہ اہلکاران و افسران کو راتوں رات متعلقہ بارڈز ایریا میں رپورٹ کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں جسکی وجہ سے مذکورہ اہلکار نہ صرف رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آخری ایام اور نہ ہی عید الفطر اپنے گھروں اور خاندان نوںکے ہمراہ گزارسکیں گے مزید برآں سیاسی اور مالی اثر رسوخ رکھنے والے افسران واہلکاران چینی بحران پر حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اتنے بڑے اقدام کے باوجود اپنے من پسند علاقوں اور چیک پوسٹوں اور نشستوں پر تعینات ہیں اسکے علاوہ اسوقت کراچی سے ملحقہ بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر حب چینی اور کھاد کی ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے ایک بڑا ڈمپنگ اسٹیشن بنا ہوا ہے جہاں پر نہ صرف انڈسٹریل کی بند فیکٹریاں اور حب شہر کے مختلف علاقوں میں واقع بڑے بڑے گودام چینی اور یوریاکھاد سے بھرے پڑے ہیں اور رات کی تاریکی میں جعلی دستاویزات پر چینی اور یوریا کھاد سرکاری پروٹوکول میں بذریعہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ افغانستان اسمگل کی جارہی ہے لیکن اس بڑے مافیا پر کسی بڑے آفیسرسے اور ادارے کو ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں ہے جبکہ دوسری طرف بلوچستان پولیس کے سربراہ نے چینی کھاد اسمگلنگ پر نوٹس لینے کی حد ہی کردی کہ بڑے مگر مچھوں کا گھیراتنگ کرنے کے بجائے کھانہ پُری کےلئے حب کے ایک SHOکو معطل کر کے خواب خرگوش کی نیند سو گئے ۔


