فراڈ کیس میں ضمانت منظور،مجھ پر بہت ہی خطرناک مقدمہ بنایا گیا ہے، علی زیدی
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کی ملیر کورٹ نے فراڈ اور دھمکانے کے کیس میں پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے علی زیدی کو 10 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا جبکہ مدعی مقدمہ کے وکیل کامران بلوچ نے درخواست ضمانت پر اعتراض نہیں کیا۔ اس موقع پر مدعی مقدمہ کے وکیل کامران بلوچ نے کہا کہ میرے موکل نے کہا ہے کہ ہم آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کریں گے جس پر علی زیدی کے وکیل خالد محمود نے جواب دیا کہ ہم کوئی آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ نہیں کر رہے۔ بعدازاں کراچی کی ملیرکورٹ نے فراڈ اور دھمکانے کے مقدمے میں علی زیدی کی ضمانت منظور کر لی۔علی زیدی کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران مدعی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہماری عدالت سے باہر سیٹلمنٹ ہو چکی ہے، مدعی مقدمہ ملک سے باہر ہیں۔ اس سے قبل صبح فراڈ کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے علی زیدی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے علی زیدی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق تفتیشی افسر کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 30اپریل تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا تھا۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما و سابق وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ مجھ پر بہت ہی خطرناک مقدمہ بنایا گیا ہے۔یہ بات رہنما تحریکِ انصاف علی زیدی نے ملیر کراچی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر گولیاں چل گئیں، مگر اس واقعے کا آج تک مقدمہ درج نہیں ہوا۔علی زیدی کا مزید کہنا ہے کہ میرے خلاف ایسے شخص کا مقدمہ درج کیا جس کو اپنا نہیں پتہ۔سابق وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بھی نہیں پتہ کہ مدعی زندہ ہے بھی یا نہیں، بس مقدمہ درج کر دیا گیا۔


