بولان مینگل کی قبائلی دشمنی تھی ،ترجمان شہدا فورم
کوئٹہ:ترجمان شہدا فورم نے اپنے ایک وضاحتی اور تردیدی بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک تنظیم کی جانب سے ایک بیان جاری کرکے بلوچستان کے ایک اہم سیاسی شخصیت پر من گھڑت اور بے بنیاد الزام لگا کر اپنی تنظیم کو سوشل میڈیا ہر زندہ رکھنے کی ناکام کوششیں کی ہے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ میر بولان خان مینگل چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کے دست راست اور نائب تھے کسی نام نہاد شخص نے ایک تنظیم کا سہارا لیکر اپنے مفادات کے خاطر اندھیرے میں تیر چلایا ہے جوکہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے سوشل میڈیا پر جو گمراہ کن خبر پھیلایا گیا ہے حقیقت سے اس خبر کو کوئی تعلق نہیں ہے میر بولان خان مینگل کا قائد جھالاوان عوامی پینل میر شفیق الرحمن مینگل سے نہیں بلکہ نواب محمد اسلم خان رئیسانی سے تعلق تھے اور ان کے ساتھ بطور دست راست کام کرتے تھے شنید میں آیا ہے کہ میر بولان مینگل کا کسی قوم کے ساتھ قبائلی دشمنی تھا سوشل میڈیا پر ایک خبر کے مطابق میر بولان خان مینگل کے قتل کی زمہ داری بھی باقاعدہ طور پر ایک قوم ترجمان نے قبول کی ہے میر بولان مینگل کو جس طرح مینگل قوم کے دوسرے معتبرین قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اسی طرح قائد جھلاوان عوامی پینل میر شفیق الرحمن مینگل بھی انہیں شرف اور عزت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور میر شفیق الرحمن مینگل بھی انکے ناگہانی اور بہیمانہ قتل پر افسردہ ہیں اور انکے لواحقین سے اظہارِ افسوس بھی کیا ہے مینگل اقوام کے دیگر قبائلی سردار اور معتبرین کی طرح میر شفیق الرحمن مینگل بھی مینگل قبیلے کے ایک معتبر کی حیثیت سے میر بولان مینگل کے لواحقین کے ساتھ بطور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس معاملے میں وہ میر بولان مینگل کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں میر بولان مینگل کا ہلاکت ایک المناک سانحہ ہے میر شفیق الرحمن مینگل غم کی اس گھڑی میں انکے لواحقین ساتھ برابر کے شریک ہیں


