جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں کے حوالے سے جلد خوشخبری دیں گے، عبدالولی کاکڑ

کوئٹہ (این این آئی) گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس جدید دور میں بھی یونیورسٹی کے اساتذہ کرام اور اسٹوڈنٹس کا قیمتی وقت احتجاجوں اور ہڑتالوں میں ضائع ہو رہا ہے. یونیورسٹی آف بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین کی تنخواہوں کی فراہمی کے حوالے سے دو تین دن میں خوشخبری دیں گے. اس کے علاوہ ہم صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آل بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیز وائس چانسلرز کانفرنس کو منعقد کرنے کیلئے شعوری کاوشیں کر رہے ہیں. یونیورسٹیوں کے مالی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے وائس چانسلرز صاحبان کے علاوہ دیگر اقتصادی ماہرین اور سیاسی دانشوروں کے علم اور تجربہ سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے. یہ بات انہوں نے نذیر لہڑی کی قیادت میں یونیورسٹی آف بلوچستان کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کئی. اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے اساتذہ کرام کو درپیش مسائل ومشکلات، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تدریسی طریقہ کار سمیت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی. اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ آپ اپنی تنخواہوں اور الاونسز کیلئے تگ ودو کر رہے ہیں جو آپ کا حق ہے لیکن ہمارا پروگرام آنے والی نسلوں کو تحفظ بھی دینا ہے. میں ایک ذمہ وار شہری کی حیثیت سے حقوق و فرائض کے درمیان توازن قائم کرنے سے بھی ایک دو قدم آگے جانے اور سوچنے والے فرض شناس دیدہ وروں کی تلاش میں ہوں. اس ضمن میں یہ اس صوبے کی خوش قسمتی ہے کہ ہمیں اپنے گورنر ہاوس میں ایک اچھی دیانتدار ٹیم ملی ہے جو فرائض منصبی میں صبح سے شام تک میرے دست بازو بنے رہتے ہیں. گورنر بلوچستان نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ وہ قابل اور عوام دوست لوگ پیدا کرنے اور ان کو سامنے لانے میں بھرپور تعاون اور مدد فراہم کریں. اگر حق حقدار تک پہنچانے میں ہم نے اقرباءپروری اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عملی اقدامات نہ کیے تو مسقبل قریب میں ہم من حیث القوم کئی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہمیں زندگی کے معاملات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو بہت ماہرانہ اور فلسفیانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے. اس سلسلے میں پائیدار روڈ میپ تیار کرنے کیلئے ہماری اپنی ٹیم ماہرین کی آراءاور دانشوروں کی تجاویز کو ایک حتمی شکل دینے پر کام کر رہی ہے اکیڈمیہ اور انڈسٹری کے درمیان تعلقات پیدا کرنا، یونیورسٹیز کے انٹرنیشنل لِنکس بنانا اور خاص طور پر تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کو اپنے وساتل خود پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا وغیرہ ہمارے آئندہ کے لائحہ عمل کے لازمی حصے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں