کسی سیاسی جماعت یا ادارے کے پاس موجودہ سیاسی ،معاشی ، معاشرتی بحران سے نکلنے کا کوئی پلان نہیں، نوابزادہ لشکری رئیسانی
کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سیاسی منظر نامہ پر حقیقی سیاسی قیادت کہیں دکھائی نہیں دے رہی ، سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی جنگ جاری ہے اور لوگ دس کلو آٹے کے تھیلے کیلئے جانیں دے رہے ہیں یہ بات انہوں نے گزشتہ روز کراچی سے کوئٹہ پہنچنے پر سراوان ہاوس میں دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد بھی موجود تھے۔نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ اقتدار کی جنگ لڑنے والی کسی سیاسی جماعت کے پاس سیاسی، معاشی ، معاشرتی پلان نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکمران اتحاد اور تحریک انصاف نہیں چاہتی کہ مذاکرات ہوں محض مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کیا جارہا ہے اگر یہ جماعتیں چاہیں تو مذاکرات میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی ، تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کو چائیے کہ اپنے اپنے ایجنڈے کو عوام کے سامنے لاکر ان پر مذاکرات کرکے درمیانی راستہ تلاش کریں۔انہوں نے کہاکہ آج ملک میں لوگ بھوک سے مررہے ہیں ، مہنگائی کا بحران ہے ،بلوچستان کے لوگوں کو ان کے قومی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ایسے میں ان سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کرنے چائیے تھے مگر دونوں جانب سے عدم سنجیدگی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میںمسلسل لانگ مارچ اوردھرنے ہوتے آرہے ہیں صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج کو تمام سیاسی جماعتوںنے مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ انتخابات شفاف نہیں ہوئے اورآج جب حکومت میں ہیں یا کل جو حکومت میں تھے ان کو خطرہ ہے کہ انتخابات شفاف نہیںہوںگے تو کیوں کر ان سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں شفاف سیاسی نظام کیلئے قانون سازی نہیں کی کیوں کہ یہ صرف اور صرف چور دروازے سے پارلیمنٹ میںآنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوںنے شفاف سیاسی نظام کیلئے کبھی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازی کرنے کا سوچا تک نہیں ہے۔


