صنعتی پیداوار میں کمی، بلوچستان کے کئی شعبوں میں لاکھوں ملازمین ملازمتوں سے محروم ہونے لگے
کوئٹہ (یو این اے) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں رواں مالی سال کے دوران صنعتی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کی وجہ سے بلوچستان کے کئی شعبوں میں لاکھوں لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ خام مال کی درآمد پر پابندیاں، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور، بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے انڈسٹریل ایریا میں کافی تعداد میں صنعتی فیکٹریاں بند ہونے لگی ہیں ہیں اور بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں لیڈا میں کافی تعداد میں فیکٹریاں بند ہونے لگی ہیں جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے پروڈکشن کم ہوگئی ہے ہے ہولڈرز نے دعوی کیا ہے کہ حب کے 4 صنعتی شعبوں سمیت ملک بھر کے آٹو وینڈنگ یونٹس میں 5 لاکھ سے زائد لوگوں کو بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹوریٹ آف مین پاور لیبر ہیومن ریسورس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ کاروباری افراد اِن اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملازمتوں کے بحران کو شرح تبادلہ کے مسائل سمیت دیگر مختلف وجوہات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں صنعتی شعبے میں بے روزگاری 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہے حکومت بلوچستان کے محکمہ شماریات، منصوبہ بندی اور ترقی کے ماہانہ صنعتی پیداوار اور روزگار سروے ایم آئی پی ای کے مطابق فروری میں 18 مختلف صنعتوں میں ملازمین کی کل تعداد 2 لاکھ 2 ہزار 663 تھی جو کہ گزشتہ سال فروری میں 2 لاکھ 21 ہزار 163 تھی اسی طرح فروری 2023 میں اِن صنعتوں میں پروڈکشن ورکرز کی تعداد ایک لاکھ 51 ہزار 194 ہوگئی جو کہ گزشتہ برس فروری میں ایک لاکھ 62 ہزار 207 تھی لارج اسکیل یونٹس میں پروڈکشن ورکرز کی تعداد گزشتہ برس ایک لاکھ 65 ہزار تھی جو کہ رواں برس فرروی میں ایک لاکھ 55 ہزار ہوگئی علاوہ ازیں فروری 2022 میں ملازمین کی کل تعداد 2 لاکھ 55 ہزار تھی جبکہ فروری 2023 میں یہ تعداد 2 لاکھ 20 ہزار تھی۔


