صورتحال اطمینان بخش ہے، وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں فوج کی تعیناتی سے متعلق سمری روک دی

کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان میں فوج کے دستوں کی تعیناتی سے متعلق سمری ،وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے صورتحال اطمینان بخش ہونے پر سمری پر عملدرآمد روک دی۔ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج ودیگر سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ)بلوچستان صالح محمد ناصر کی جانب سے صوبائی حکومت کی مدد کیلئے فوج کے دستوں کی تعیناتی کیلئے وزیراعلی بلوچستان کو سمری ارسال کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اور انسانی جانوں اور سرکاری/نجی املاک کے تحفظ اور سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے آئین آرٹیکل 245 کے تحت صوبائی حکومت کی مدد کیلئے فوج کے دستوں کی خدمات درکار ہیں۔اور اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور امن و امان کی خرابی کے لیے Cr.P.C 1898 کی دفعہ 131 (A)۔ اس سلسلے میں، مسودہ کی درخواست ضمیمہ-A میں رکھی گئی ہے جسے غور کے لیے وفاقی حکومت کو بھیجا جائے گیا۔ آئین کے آرٹیکل 245 (1) اور سیکشن 131 (1) کے تحت سول پاور کی مدد کے لئے وافر تعداد میں فوج کے دستوں کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کو بھیجے جانے والے خط کے مسودے کی منظوری طلب کی گئی ہے۔موجودہ امن و امان کے حالات سے نمٹنے کے لیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سمری میں وزیرِ اعلی بلوچستان سے منظوری طلب کی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان میں صورتحال اطمینان بخش ہونے پر سمری پر مزید عمل درآمد روک دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں