امپائرز نے کھیل کے پہلے اور دوسرے ہاف میں ٹیموں کی حمایت تبدیل کی،حافظ حسین احمد
کوئٹہ: جمعیت علماءاسلام پاکستان کے مرکزی رہنما سابق پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ حالات کے ساتھ الفاظ و لغات کے معانی بھی تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جس کو ”نیوٹرل“ کہا اور سمجھا جاتا تھا آج اس کو ” نیو ٹرن“ کے مفہوم سے موسوم کیا جارہا ہے ۔وہ ہفتہ کو جمعیت علماءاسلام پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل مولانا محمد امجد خان کی ہمشیرہ مرحومہ کی تعزیت کے بعد جامعہ رحیمہ لاہور میں گفتگو کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ کل کچھ ادارے ”A“ کو اور آج وہی ”B“ کو سپورٹ کررہے ہیں اس لیے سیاسی بے چینی کے گہرے اور کالے بادل مسلسل چھائے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ اور سیاسی جماعت کو ”آئین “ کے آئینے میں اپنا کردار اور عمل کو ازخود دیکھنا ہوگا اور خود احتسابی کا یہ عمل ہی ہمارے مسائل و مشکلات کا حل ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کھیل کھلانے والا ریفری کھیل کے شروع میں ایک ٹیم کا ساتھ دے اور دوسرے ہاف میں امپائر دوسرے ٹیم کا ساتھ دے تو نہ صرف دونوں ٹیمیں آواز اٹھائیں گی بلکہ تماشائی بھی اس پر بھرپور احتجاج کریں گے اور ہمارے ہاں تقریباً یہ انداز نظر آتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ پیدائشی جمعیت علماءمیں تھے اور آخری دم تک انشاءاللہ رہیں گے جماعت کے مفاد میں کل بھی بات کی ہے اور ضرورت پڑی تو اب بھی کرونگا۔


