صدر علوی نے پاک فوج حملے پر ایک لفظ نہیں بو لا انہیں شرم آنی چاہئے،خواجہ آصف

سیالکوٹ: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے عدالت سے ہمار ا مطالبہ ہے کہ وہ عمران خان کو سہولت کاری کرنا بند کردے، پی ٹی آئی کو کالعد م قرار دینے کا آپشن موجود ہے۔ اس چیف جسٹس سے انصاف کی کیا توقع کریں جو ایک مجرم کو اٹھ کر کہہ رہا ہے کہ وش یو گڈ لک، کاش اس قسم کا ریلیف ہمیں ملتا۔ سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا،بہت سی حدود کراس ہوئی جن پر معافی مانگتا ہوں،ہم اداروں اور پارلیمنٹ کا دفاع کریں گے، پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دینے کا آپشن موجود ہے۔ سیالکوٹ میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیاست میں بہت سی حدود کراس ہوئی ہیں میں کبھی بھی سیاسی انتقام کی سیاست نہیں کر تا کسی کی چادر اور چاردیواری کو تقدس پامال نہیں کیا اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ میں نے کبھی اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ نہیں بنایا، انتطامیہ اور پولیس کا کچھ نہیں جاتا لیکن ہمارے لیئے باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر شرمندہ ہوں میں جتنی بھی مذمت کروں وہ کم ہے۔ عثمان ڈار کی والدہ یا دیگر ہمارے ساتھیوں کے ساتھ جو ہوا میں ان سے معذرت کرتا ہوں۔ ہماری سیاست میں کہیں بھی انتقام کا لفظ نہیں رات کو معلوم ہوا پی ٹی آئی کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ جن فیملیز سے برا سلوک کیا گیا ان سے معافی مانگنے کو تیار ہوں۔سوچ بھی نہیں سکتا اس قسم کا سلوک روا رکھا جائے گا۔ اجازت ملی تو خواتین اور یٹیوں سے معافی مانگوں گا۔ سیاسی بنیاد پر بیان نہیں دے رہا ذاتی طور پر شرمند ہوں۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 2018 میں ایک ایجنڈے کے تحت نوازشریف کی سیاست ختم کرنے کی سازش شروع ہوئی۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ تھا کہ نوازشریف کی سیاست ختم کرنی ہے،نوازشریف کو سازش کے تحت اس عدالت نے جھوٹے اقامے کی بنیاد پر وزیراعظم کے عہدے سے فارغ کردیا اور تاحیات نااہل قرار دیدیا لیکن نوازشریف کی سیاست آج بھی جاری ہے۔ نواز شریف کو ہٹانے کی سازش میں میں ملوث گھناؤنے کردار ذلت و رسوائی کے مارے ادھر ادھر چھپ رہے ہیں جبکہ ان کا بھائی وزیراعظم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس قسم کا ریلیف آج عمران خان کو مل رہا ہے کاش ہمیں بھی اس قسم کا ریلیف ملتا، ملک کی سب سے بڑ ی عدالت کا چیف جسٹس ایک مجرم کو کہہ رہا ہے کہ آپ کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اٹھ کرگلے ہی لگالیتے اس جج سے انصاف کی کیا توقع کریں جو مجرم کے سامنے اٹھ کر کہے کہ :وش یو گڈلگ:اور ساتھ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اس کی حفاظت کیلئے بندوں کا بھی انتظام کرو، عمران خان کی سہولت کاری کرنیوالے افراد کو حدود کا پا س نہیں، سپر یم کورٹ کے دو ججوں کو بولنے نہیں دیا گیا، یہ کونسی عدالتیں اور کون سا انصاف ہے پاکستان کے عوام پریشان ہیں،نوازشریف اور مریم نواز کو ریلیف کیوں نہیں دیا گیا،ہمارے لیڈران کو تو اس طرح پروٹول نہیں دیا گیا۔۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا ہم اداروں اور پارلیمنٹ کا دفاع کریں گے، ایگزیکٹو جو فیصلے کرے گی ہم اس پر عمل کرانے کے پابند ہیں، ہمارا احتجاج کوئی غیر قانونی نہیں ہمار ا احتجاج صرف اس لیئے عدلیہ سہولت کاری کرنا بند کردے اور آئین و قانو ن کے مطابق چلے۔ یادگار فوج پر حملے ہو ئے، اداروں کی عمارتوں کو جلایا گیا،لاہور اور راولپنڈی میں آرمی تنصیبات پر حملے ہوئے، اس شخص نے اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کا ایڑی چوٹی کا زور لگایا یہ بھول جاتا ہے اسے لنگڑانا بھی ہے،وہ جب بھی عدالت گیا کیا کسی شخص نے اسے لنگڑاتے ہو ئے دیکھا،عمران خان کا 10سالہ حکمرانی کا پلان تھا جو پورا نہیں ہوا، آج اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے تو اسے اس پر اعتراض ہے۔ وہ اسٹیبلمشنٹ کی منتیں ترلے کرتا ہے اور انہیں پیغامات بھجواتا ہے۔، 4سال عمران خان لوٹتارہا اب اس کے حواری دوسروں کے گھروں کے لوٹ رہے ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ادارو ں پر ٹی ٹی پی کی طرز پر حملے کیئے،پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دینے کا آپشن موجود ہے، عمران خان عدلیہ سے این آر او لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی بظاہر تو ملک کے صدر ہیں لیکن ان کو شرم آنی چا ہیے کیونکہ پاک فوج پر حملے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایک لفظ تک نہیں بولا

اپنا تبصرہ بھیجیں