SBK نوشکی کیمپس انتظامیہ طالبات کو ذہنی ٹارچر کررہی ہے، فیسوں سمیت تمام مسائل حل کیے جائیں، بی ایس او

نوشکی (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نوشکی زون کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت زونل صدر آغا عاطف شاہ منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خصوصی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی کمیٹی کے ممبر آغا الیاس بلوچ تھے۔ اجلاس میں موجود بی ایس او نوشکی زون کے زونل سینئر نائب صدر وقاص بلوچ، سینئر جوائنٹ سیکرٹری آغا فیض بلوچ، جونیئر جوائنٹ سیکرٹری باسط بلوچ، انفارمیشن سیکرٹری زاہد حنیف بلوچ، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج نوشکی کے یونٹ سیکرٹری بلاول بلوچ بھی موجود تھا۔ اجلاس میں SBK وومن یونیورسٹی نوشکی کیمپس میں طالبات کو درپیش مسائل، طالبات کے احتجاج و یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بلوچ روایات کے برخلاف طریقہ کار و طالبات کو ذہنی ٹارچر کرنے کا جائزہ اور گورنر بلوچستان کو لیٹر لکھنے و احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں شرکاءنے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ کئی عرصے سے مختلف قسم کی شکایت سامنے آرہی تھیں ہم نے ہر وقت کوشش کی کہ تعلیمی اداروں میں ماحول کو ٹیچرز و انتظامیہ کے تعاون و طریقہ سے طالبات کے بہتر ماحول فراہم کیا جائے لیکن یونیورسٹی میں منفی عوامل کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں، طالبات کو فیسوں و اسکالر شپس کے حوالے سے ذہنی ٹارچر کرنا ہو یا فرمائشی پروگرامز کے لئے کیمپس کو غیر اسٹوڈنٹس کے لیے پراگرمز کا انعقاد یا انتظامیہ کا مختلف بہانوں سے منفی عوامل ہوں، لیکن اب فیسوں کے بڑھنے پر نوشکی کے غریب طالبات جن کے لئے گھروں سے نکل کر یونیورسٹی پہنچنا انتہائی مشکل ہے کو ذہنی اذیت کا شکار بنا کر ادارے کو کاروباری مرکز میں فیسوں کے حصول کا ذریعہ بنانا کسی صورت ناقابل قبول ہے۔ گزشتہ دنوں طالبات نے پرامن طور پر پردے میں اس مسئلے پر احتجاج کیا تو انتظامیہ کی جانب سے تنگ نظری و اسے عزت و غیرت کا مسئلہ قرار دے کر طالبات کی کردار کشی کی گئی، کئی طالبات کو کلاسز میں رونے تک مجبور کیا گیا جوکہ قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے، پنجاب میں جلانے کی اجازت جبکہ یہاں طالبات کو فیس ادا نہ کرنے پر تذلیل کی جاتی ہے نوشکی کے باہمت حوصلہ مند طالبات کی عزت کسی سے کم نہیں ہے، نوشکی میں خواتین کا سڑکوں پر نکلنا تاریخ رہی ہے اگر اتنا ہی تنگ نظری کا شکار ہے تو ادارے کے میل اسٹاف کی جگہ فیمیل اسٹاف تعنیات کیا جائے۔ نوشکی میں خواتین ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں۔ بی این پی کی خواتین ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت شعور کی علامت تھی اور SBK طالبات کے احتجاج پر طعنہ، عزت و غیرت کے نام نہاد لیکچر سے پہلے انتظامیہ اپنا قبلہ درست کرے یا اپنے ان تنگ نظر لیکچرز پر عمل کرکے خود فیمیلز کو ادارے کو چلانے دے۔ اجلاس میں مزید کہا گیا کہ طالبات کو اسکالر شپس سے آﺅٹ کرنے، لیپ ٹاپ اسکیم و فیل کرنے کے دھمکیاں بھی دی گئیں اگر کوئی اسٹوڈنٹ یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور ہوا تو ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ کی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں