9جون کو فیس و آئن لائن کلاسز کے خلاف کراچی میں تین روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا، بلوچ طلبہ تنظیمیں

کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل (اسلام آباد)، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان، بلوچ ایجوکیشنل کونسل بہاولپور اور بلوچ ایجوکیشنل کونسل کراچی نے اپنے مشترکہ بیان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہٹ دھرمی اور طالب علموں کو درپیش مسائل کو نظر انداز کرکے آن لائن کلاسز کے اجرا اور بھاری بھر کم فیسوں کے ادائیگی کو طالب علموں سے نا انصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے آن لائن کلاسز کا انعقاد اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے آن لائن کلاسز کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا اور فیسوں کا مطالبہ کرنا بلوچستان، ڈیرہ جات، خیبر پختونخواہ، اندرون سندھ، گلگت بلتستان، کشمیر، کے طالب علموں کے مستقبل کو تاریک کرنے کے مترادف ہے۔
۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کرونا وائرس کی وباء سے تمام شعبہ جات شدید متاثر ہے۔ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کی بندش کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں بھی ماند پڑ گئی ہیں۔ مگر ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ یونیورسٹیز نے معروضی حقائق کو پس پشت ڈال کر آن لائن کلاسز کاانعقاد و فیسوں کی ادائیگی کے نوٹیفکیشن جاری کرکے تمام جامعات کو عملدرآمد کرنے کی تاکید کی گئی ہے جو بلوچستان سمیت ملک کے تمام پسماندہ خطوں کے طالب علموں کے مستقبل کے ساتھ مذاق ہے۔

مشترکہ بیان میں غیر معیاری آن لائن کلاسز اور بھاری بھر کم فیسوں پہ خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، فیصل آباد اور پشاور میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے طالب علموں کو کلاسز لینے میں دشواری پیش آتی ہے تو بلوچستان کے دور دراز دیہاتوں کے طالب علم بغیر انٹرنیٹ اور بجلی کے آن لائن کلاسز کیسے لے سکتے ہیں۔ غیر معیاری آئن لائن کلاسز، سہولیات کی عدم دستیابی اور طلبہ کی مالی پریشانی کو مد نظر رکھ کر ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کریں۔ ہم اس امر کو واضح کرتے چلے کہ ہم قطعاً آئن لائن کلاسز کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ہمارا مطالبہ بہت سادہ سا ہے کہ طلبہ کو بنیادی سہولیات فراہم کیے جائے اُس کے بعد آئن لائن کلاسز کا آغاز کیا جائے۔

طلباء الائنس نے اپنے بیان کے آخر میں وفاقی حکومت، حکومت بلوچستان، وفاقی وزارت تعلیم اور دیگر ذمہ داران سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی فیصلے کو منسوخ اور مستحق طالب علموں کے فیسوں کو معاف کرکے طالب علموں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جائے۔ اگر ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے فیصلے کو منسوخ نہیں کرتی تو مجبوراً ہم احتجاج کے دائرہ کو وسیع کریں گے۔ اس سلسلے میں بروز منگل مورخہ نو جون کراچی پریس کلب کے سامنے سہ روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے۔

تمام طالب علموں، استادوں اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طالب علموں کے احتجاج میں شرکت کرکے انکے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں