بلوچستان میں عیدالاضحی سے قبل کانگو وائرس کے پھیلنے کا خدشہ،ایڈوائزری جاری

کوئٹہ(یو این اے )قومی ادارہ صحت کے ماہرین کا کانگو وائرس کے بارے میں تیار کردہ ہدایت نامہ محکمہ صحت بلوچستان کے کو بھجوا دیا گیا ہے ہدایت نامے کا مقصد شہریوں اور طبی ماہرین کو کانگو وائرس کے بارے میں معلومات فراہم کرنا اور محتاط کرنا ہے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ کانگو وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں، بروقت حفاظتی اقدامات سے ہی کانگو وائرس کا پھیلاو روکنا ممکن ہے، متعلقہ ادارے کانگو وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں، کانگو بخار خطرناک و نامی وائرس سے لاحق ہوتا ہے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ کانگو وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں، بروقت حفاظتی اقدامات سے ہی کانگو وائرس کا پھیلاو روکنا ممکن ہے، متعلقہ ادارے کانگو وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں، کانگو بخار خطرناک نیرو نامی وائرس سے لاحق ہوتا ہے ماضی میں بلوچستان کانگو وائرس سے زیادہ متاثر رہا ہے۔ ملک میں کانگو وائرس کے بیشتر کیس بلوچستان سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ رواں برس بلوچستان میں 27 کانگو کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 5 اموات رپورٹ ہوئیں کانگو وائرس مویشی کی کھال سے چپکے چیچڑ میں پایا جاتا ہے۔ گائے، بکری، بھیڑوں اور پالتو جانوروں کی جلد کانگو وائرس چیچڑ کی پناہ گاہ ہے کانگو وائرس چیچڑ کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے، متاثرہ چیچڑ کے کاٹنے سے کانگو وائرس انسان کو منتقل ہوتا ہے چیچڑ میں پایا جانے والا نیرو وائرس انسانوں کو کانگو بخار لاحق ہونے کا سبب بنتا ہے۔ کانگو وائرس سے انسان ہیموریجک بخار میں مبتلا ہوتا ہے کانگو بخار سے ہلاکتوں کی شرح 10 تا 40 فیصد ہو سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں