فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں، مکران سے منتخب 13 نمائندے عوام کی جان چھوڑ کر توبہ و استغفار کریں، ہدایت الرحمن

تربت (انتخاب نیوز) حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہاہے کہ حق دوتحریک بلوچستان آئندہ عام انتخابات میں پورے مکران ڈویژن سے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، ہمارے سوفٹ ویئر ابتداءسے اپ ڈیٹ ہیں۔ وہ میری سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ کی فکرنہ کریں ہم خود سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے والے ہیں، فوجی عدالتیں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کی سہ پہر کو تربت میں حق دو تحریک کیچ کے صدر صادق فتح کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس کے بعد میڈیا کوبریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر حق دو تحریک بلوچستان کے چیئرمین واجہ حسین واڈیلہ، میر نوید کلمتی، حاجی انور دشتی، یعقوب جوسکی، صادق فتح، غلام یاسین بلوچ، غلام اعظم دشتی، مولانا نصیر احمد، وسیم سفر، صبغت اللہ شاہ جی، شبیرجان رند، مفتی احمد بلوچ، حنیف سلیمان، شاہ جہان بلوچ، گلاب بلوچ،نوید نصیر، مختار انور زامرانی سمیت دیگر بھی موجودتھے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہاکہ مکران میں ظلم وجبر کا راج ہے، عوام کیلئے بارڈر، ساحل سمیت روزگار کے ذرائع بند کردیے گئے ہیں، مافیاز کا راج ہے، بارڈر پر ٹوکن، لین اور ای ٹیگ کے نام پر بندربانٹ اور بھتہ گیری کاراج ہے، حق دو تحریک ظلم وجبر کامقابلہ کررہی ہے ہمارے کارکنان نے جیلیں کاٹی ہیں صعوبتیں برداشت کی ہیں، ہمارے ساتھی وائس چیئرمین گوادر ماجد جوہر آج بھی بے گناہ قید کاٹ رہے ہیں، مکران کے 13نمائندے پارلیمنٹ میں ہیں جواپنی نااہلی کی وجہ سے عوام کے دکھوں کامداوا نہیں کرسکے، احسان شاہ، اکبر آسکانی، زبیدہ جلال، ظہوربلیدی، حمل کلمتی، لالا رشید، اسداللہ سمیت دیگرنمائندے اب عوام کی جان چھوڑیں اور توبہ استغفار کریں یہ جتنی عوام کی خدمت کرسکے انہوں نے کرلی، اب بس کریں، یہاں سونے کی سڑکیں ہیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں اور 24گھنٹوں کے بجائے یہاں پر 48گھنٹے بجلی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 13نمائندوں کی موجودگی کے باوجود یہاں لوگ ڈینگی سے بھی مررہے ہیں، ہسپتالوں کی حالت زار ناقابل بیان ہے، سڑکیں ناقابل سفر ہیں، واپڈا کی وزارت اور کیسکو کی سربراہی کے باوجود ہفتوں لوگ بجلی سے محروم ہیں، 13نمائندے اپنی جگہ ایک جاندارنمائندہ مل جائے تو وہ قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کو سرپر اٹھا سکتا ہے مگر یہ نااہلوں کی لاٹ ہے، اس صورتحال کودیکھتے ہوئے حق دو تحریک نے عوام کو بہتر نمائندگی دینے کیلئے آئندہ عام انتخابات میں مکران ڈویژن سے اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اصل اپوزیشن کاکردار ہم ادا کررہے ہیں، قدوس بزنجو کی وزارت اعلیٰ سے قبل بڑے بڑے سقراط، بقراط اور ارسطو گھومتے پھر رہے تھے مگر آج وہ کہیں نظر نہیں آرہے، ریکوڈک کا سودا ہوگیا یہ سقراط کہاں ہیں، بارڈر، ساحل تاراج ہیں یہ کہاں ہیں، یہ سب آج مل کر کھا رہے ہیں، ان کی جنگ پی ایس ڈی پی، ٹھیکہ، بندربانٹ، کمیشن کی جنگ ہے، انہیں بلوچ کے مفاد سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کو جیل جانے کے بعد میرے سوفٹ وئیر اپ ڈیٹ ہونے کی فکر ہے وہ خود شروع سے سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ شدہ ہیں میرا اگر سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوتا تو میں 2 دن بعد جیل سے رہائی پاتا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں کسی صورت فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کریں گے۔ سویلین کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ جو فیڈر پہلے عمران خان کے منہ میں تھا اب وہی فیڈر پی ڈی ایم چوس رہی ہے، ان سے حالات کی بہتری کی امیدرکھنا بے کار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں