کوئٹہ میں بارش کی دو بوندیں گرتے ہی سڑکیں دریا بن گئیں، شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ میں بارش کی کچھ بوندیں گرنے کے بعد شہر کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی نااہلی اور عدم توجہ کے باعث کوئٹہ شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ 2022ءکے جولائی میں دوران مون سون بارشوں کی بعد میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو نالوں کی صفائی کروانے کیلئے 7 کروڑ روپے کی خطیر رقم مہیا کی گئی تھی جسے راتوں و رات بند کمروں میں تقسیم کرکے فوٹو سیشن بخوبی کیا گیا اور بیسٹ ایڈمنسٹریٹر بننے کیلئے بہت سے لوگوں نے بوٹ اور چھتریاں بھی خریدیں، جسے تصویریں لینے اور سوشل میڈیا پر چرچا کروانے کیلئے بخوبی استعمال کیا گیا تھا۔ اب حالت زار یہ ہے کہ کوئٹہ میں بارش کے پانی کی دو بوندیں کیا گریں نالوں نے میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور نااہل ایم پی ایز کی کارکردگی کا ساری راز کھول کر رکھ دیا۔ سریاب روڈ ہو یا نواں کلی، سیٹلائٹ ٹاﺅن ہو یا پشتون آباد یا بروری روڈ سب نالے اپنی صفائی کی بھیک مانگ رہے ہیں مگر وسائل کا رونا رونے والی میٹرو پولیٹن کارپوریشن ایمرجنسی فنڈز کے اجراءپر بند کمرہ اجلاسوں میں مصروف ہیں، سننے میں آیا ہے کہ بیسٹ ایڈمنسٹریٹر نے توقع لگا رکھی ہے کہ جلد مون سون کی بارشیں ہوں اور گزشتہ سال کی طرح ایک مرتبہ پھر ایمرجنسی فنڈز ملیں جسے ہڑپ کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں