ہماری عدالتیں آزاد، عدالتی حکم پر عمران خان کی گرفتاری صحیح ہے، پرویز خٹک

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے سربراہ اورسابق وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ اگر عدالتی حکم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو گرفتار کیا ہے توصحیح گرفتار کیا ہے کیونکہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں ۔ گزشتہ روز کون چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے نکلا ہے، خالی باتوں سے توکچھ نہیں ہوتا، لوگوں کو بیوقوف بنانے سے ملک صحیح نہیں ہوسکتا، میں عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی نیا پاکستان نہیں بنارہا، چیئرمین پی ٹی آئی ڈکٹیٹر بننا چاہتا ہے، فوج کے خلاف جنگ کرنا چاہتا ہے اور ملک میں افراتفری لانا چاہتا ہے تاکہ یہ ملک تباہی کی طرف جائے۔ یہ بندہ ملک میں انتشار کے لئے آیا ہے اور ڈکٹیٹربننا چاہتا ہے اورفوج کے خلاف انقلاب لانا چاہتا ہے۔ انتخابات کے التواء کا شکار ہونے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہے، میںجو سن رہا ہوں اوردیکھ رہاہوںآئندہ سال فروری کے آخر میں انتخابات ہوجائیں گے، عام انتخابات سینیٹ انتخابات سے قبل ہوجائیں گے۔ کوئی بھی اچھا بندہ نگران وزیر اعظم بنے جو ملک کے لئے کام کرے۔ ان خیالات کااظہار پرویز خان خٹک نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ پرویز خان خٹک کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ تحفہ لے کر بیچنا بہت شرم کی بات ہے، وزیر اعظم کا یہ کام بالکل نامناسب تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کئی چیزیں چھپائی ہوئی تھیں، کئی چیزیں بتائی نہیں تھیں ، قیمتیں نہیں بتائی تھیں، یہ ہمارے لئے بہت شرمندگی کی بات ہے اور عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے صیح کیا ہے ، میں تودیکھ رہا ہوں اس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں آرہی ہیں، چند کیسز ہیں جو بہت ہی مضبوط ہیں۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزاریورس ہونا بڑا مشکل ہے، ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے توکیسے ریورس ہو گا۔ 190ملین پائونڈز کا جوکیس ہے اس میں ملک کے پیسے کسی اورکے بینک اکائونٹ میں ڈال دیئے، میں خود بھی اس کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوا ہوں ، اس کیس میں عمران خان کیسے بچے گا، یہ بڑا ظلم ہے کہ ملک کے 30یا40ارب روپے ملک کے خزانے میں ڈالنے کی بجائے کسی اورکے اکائونٹ میں ڈال دیئے، ملک کاخزانہ لوتا ہے اور یہ پیسہ کسی اورکے پاس گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 9مئی کا کیس ہے اوراس کے علاوہ بہت سارے کیس ہیں ، ہمیں توالیکشن کے چانس ملے تھے لیکن چیئرمین پی ٹی آئی الیکشن نہیں کروانا چاہتا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے اور ایک ڈکٹیٹر بن کرآنا چاہتا ہے اور ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ایک چیز آپ نے اپنے اثاثوں میں بھی دکھانی ہے اور الیکشن کمیشن میں بھی دکھانی ہے اورجب آپ نہیں دکھاتے اورچھپا کررکھتے ہیں تواس پرسزاہوئی تواس میں کون سی ناجائزبات ہوئی ہے، اگر یہ میں کروں تو میرے ساتھ بھی یہی حساب ہو گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے جھوٹے وعدے کر کے اور ساری زندگی جھوٹ بول بول کرلوگوںکو بے وقوف بنادیا،ہم نے ساڑھے تین سال حکومت کی ہے ہم کیا بتاسکتے ہیں کہ ہم نے ملک کے لئے کیا کیا ہے، کچھ بھی نہیں۔ صرف چند لوگوں کو فائدے پہنچائے، اپنی ذات کا فائد کیا، ملک کا کیا بنا،معیشت کا کیا بنا، خارجہ تعلقات کا کیا بنا، ملک میں امن کا کیا بنا، ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دی، صرف چیئرمین پی ٹی آئی ڈکٹیٹر بن کر آنا چاہتا ہے ، عوام کو بے وقوف بنارہا ہے اور جب لوگوں کوسمجھ آئے گی تو ا ن کی عقل ٹھکانے آجائے گی کہ یہ ملک کے ساتھ کیا کرنے لگا تھا۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس اپنے دفاع میں کچھ ہے ہی نہیں، اگرچیئرمین پی ٹی آئی اگر سچا ہوتا تواپنے اثاثے الیکشن کمیشن کودکھا دیتا اور اپنے ٹیکس ریٹرنز میں دکھا دیتا توکیس ہی نہ بنتا،چیئرمین پی ٹی آئی جو کرگئے ہیں اس کی سزاانہیں ضرور ملنی چاہیئے۔چیئرمین پی ٹی آئی سارے معاملات خود ہی چلاتا تھا اورسارے ملک کو اندھیرے میں رکھا ہواتھا، سنتا ہے مانتا ہے لیکن کرتا وہ ہے جواس کی مرضی ہوتی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتا ہے، بہت ہوا میں ہے، بہت غرور میںہے اور جب انسان غرور میں ہوتا ہے تواس کا سرنیچا ہوتا ہے اوریہی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والا ہے۔ایک سوال پر پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ میں پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ انتخابات نظر نہیں آرہے، کوئی انتخابی مہم نہیں چل رہی ، صاف ظاہر تھا کہ انتخابات رواں سال نہیںہوں گے، اگلے سال انتخابات کروانے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میری نئی پارٹی بنی ہے اور مجھے وقت چاہیئے ، میں اللہ کا شکر اداکرتا ہوں کہ انتخابات تاخیر کاشکار ہوجائیں تاکہ میں اپنی پارٹی کو آگے لے جائوں، انتخابات کے التواء کا شکار ہونے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہے، میںجو سن رہا ہوں اوردیکھ رہاہوںفروری کے آخر میں انتخابات ہوجائیں گے، عام انتخابات سینیٹ انتخابات سے قبل ہوجائیں گے۔ کوئی بھی اچھا بندہ نگران وزیر اعظم بنے جو ملک کے لئے کام کرے۔ ہماری پارٹی نے خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں جلسوں کا شیڈول دے دیا ہے، وفاق اور پنجاب میں اپنی ٹیم بنانے کی کوشش کریں گے۔ 19اگست کو نوشہرہ میں جلسہ کررہا ہوں۔ سردار جہانگیر ترین خان کی اپنی پارٹی ہے اور میری اپنی پارٹی ہے کس طرح ہم ضم ہوں گے، میرا اوران کا نقطہ ایک نہیں ہے، اُن کی اپنی سوچ ہے اور میری اپنی سوچ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں