داد شاہ کو کراچی سے لاپتا کیا گیا، کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں، بازیاب کرایا جائے، اہلخانہ

کراچی (انتخاب نیوز)بھائی کو فورسز کی بھاری نفری نے غیر قانونی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔ ان خیالات کا اظہار لاپتہ داد شاہ کی ہمشیرہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے نوجوان اور طالب علم بھائی داد شاہ ولد صبر خان کو گزشتہ رات دو بجے کے قریب کراچی ہاکس بے میں واقع گھر سے سی ٹی ڈی فورسز کی بھاری نفری نے چھاپہ مار کر غیر قانونی حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔ انہوں نے کہاکہ میرے بھائی کو میرے ضعیف العمر والد کی موجودگی میں غیر قانونی حراست میں لیکر لاپتہ کیا گیا، داد شاہ کے ہمراہ فورسز انکے موبائل، چارجر، سوٹ کیس میں کچھ کپڑے بھی ساتھ لے گئے اور فورسز نے میرے والد صاحب کو بتایا کہ وہ سی ٹی ڈی والے ہیں اور داد شاہ کو تفتیش کیلئے لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میرا بھائی ایک طالب علم ہیں، وہ انٹرمیڈیٹ کے بعد گھر کے معاشی حالات کی وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکا۔ انہوں نے ایک دکان کھولی ہوئی تھی، ہم بنیادی طور پر گریشہ خضدار کے رہائشی ہیں، وہاں حالات کی ابتری اور کراچی میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کیلئے ہم نے کراچی میں سکونت اختیار کی ہوئی ہے۔ میرا بھائی ایک شریف النفس انسان ہے، وہ بلوچی زبان اور ادب کے حوالے سے لکھتا رہا ہے، ان کی ایک تصنیف جلد شائع ہونے والی تھی، اسکے علاوہ اس کا کسی بھی تنظیم یا کسی بھی قسم کی کوئی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھائی کی غیر قانونی حراست اور جبری گمشدگی کو رپورٹ کرنے ہم قریبی تھانے گئے، تھانہ انچارج نے سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور ہمیں کہا کہ وہ اپنے ہی اداروں کیخلاف ایف آئی آر نہیں کرسکتے اور ہمارے دعوے کو رد کردیا جبکہ ہم نے انہیں بتایا کہ سی ٹی ڈی والے خود میرے والد صاحب کو بتا چکے ہیں کہ ان کا تعلق سی ٹی ڈی سے ہے اور وہ داد شاہ کو لے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملکی اداروں سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ ہم انصاف کیلئے کہاں جائیں؟ بطور اس ملک کے پرامن شہری جب فورسز کے اہلکار بنا کسی جرم اور ایف آئی آر کے کسی شہری کو رات کی تاریکی میں اس طرح غیر قانونی حراست میں لیکر لاپتہ کر دیتے ہیں اور گمشدگی کی رپورٹ بھی درج نہیں کرتے ہیں تو ہم کس طرح انصاف کی امید رکھ سکتے ہیں؟ آخر میں انہوں نے کہاکہ اس پریس کانفرنس کے توسط سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ داد شاہ کو جلد از جلد منظر عام پر لایا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔ اگر داد شاہ پر کوئی الزام ہے تو اسے ملکی قائم کردہ عدالتوں میں پیش کیا جائے، لیکن ہمیں اس طرح درد اور اذیت میں مبتلا نہ کیا جائے میرے عمر رسیدہ والد اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی سے انتہائی پریشان ہیں، انہیں اتنا بتا دیا جائے کہ اس کے بیٹے کو کس جرم میں غیر قانونی حراست میں لیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں