اسلحے کی سرعام نمائش نے بلوچستان کی معاشرتی اقدار کو برباد کر کے رکھ دیا، کمال خان بنگلزئی
کوئٹہ (آن لائن) بنگلزئی قبیلے کے سربراہ سابق رکن قومی اسمبلی سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا کہ قبائلی تنازعات کے خاتمے کویقینی بنانے کیلئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردارادا کرنا ہو گا عدم برداشت تحمل اور صبر نا ہونے کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑوں میں اضافے سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہے اور اسلحے کی سرعام نمائش میں بلوچستان کی معاشرتی اقدار کو برباد کر کے رکھ دیا ہے، لہڑی اور رئیسانی قبائل کے درمیان ہونے والا جھگڑ ا بھی معمولی تکرار کا نتیجہ نظر آرہا ہے جس میں 3قیمتی انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئی ہے۔ ان جھگڑوں کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے کوشش شروع کردی ہیں۔ اس سلسلے میں چیف آف بیرک سابق صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی، سردار شیرباز خان ساتکزئی، سردار عاصم جان سرپرہ، چیئرمین تاجران ٹکری حمید بنگلزئی، ٹکری علی نواز بنگلزئی، تاجران سریاب صدر میر بشیر احمد بنگلزئی، میر قاسم جان سرپرہ، حاجی سرفراز بنگلزئی، ٹکری مراد خان بنگلزئی نے گزشتہ روز ممتاز ٹرانسپورٹر حاجی میر دولت لہڑی، وڈیرہ لال شاہ لہڑی، میر لیاقت علی لہڑی، حاجی اعظم لہڑی اور میر فرمان لہڑی سمیت دیگر سے ملاقات کی اور سریاب روڈ کے خونی اور افسوس ناک واقعہ کے خاتمے کے لیے اس مسلئے کے حل کو یقینی بنانے اور مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے اختیار مانگا سردار کمال خان بنگلزئی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان قبائلی روایات کا امین صوبہ ہے، یہاں پر بسنے والی تما م قومیتیں قوم قبیلے قابل احترام ہے ان کی اپنی حیثیت اور اہمیت ہے، بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں عدم برداشت تحمل اور صبر سے کام لینے کی بجا ئے ہر شخص معمولی باتوں کو اپنی ضد بنا لیتا ہے جس سے لڑائی جھگڑے پیدا ہو رہے ہیں جس کی بڑی وجہ سر عام اسلحہ کی نمود و نمائش ہے پہلے شخصیات کے ساتھ سرکاری گارڈز ہو تے تھے جن کی ذمہ داری ہوتی تھی اور وہ اپنے فرض کوسمجھتے تھے آ ج کل ہر گاڑی میں اسلحے سے لیس مسلح گارڈز موجو د ہیں اور وہ پتہ نہیںکو ن ہے پہلے اسلحے کی سرعام نمائش پر پابندی اور سختی ہو تی تھی لیکن اب ایسا نہیں جس طرح لہڑی اور رئیسانیوں کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں 3قیمتی جانیں چلی گئیں ہماری کوشش ہے کہ اس جھگڑے کو مزید بڑھنے سے روکیں کیونکہ یہ معمولی تکرار کا پیش خیمہ ہے دونوں قبائل کے درمیان کوئی ایسی دشمنی نہیں تھی آج ہم میر دولت لہڑی کے پاس آئے تھے اور اس مسلئے کے حل کیلئے اپناکر دار اد ا کر نے کے حوالے سے ان سے اختیار لینے کی درخواست کی جس پر انہوں نے ہماری درخواست قبول کرلی اور انہوں نے ہمیں کہا ہے کہ آپ نے ہمیشہ ہمارے مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کیا ہے جو خوش آئند بات ہے آپ دوسرے فریق سے بات کر لیں اگر وہ قبائلی رسم و رواج کے مطابق بات کرنے کیلئے راضی ہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت جلد چیف آف سراوان نواب محمد اسلم رئیسانی سے ملاقات کر یںگے اور کوئی حل نکالیں گے ۔


