کیسکو انتظامیہ میں میرٹ کے برخلاف غیرقانونی تبادلوں کی وجہ سے افراتفری پھیلی ہوئی ہے، واپڈا ہائیڈرو یونین

کوئٹہ (آن لائن) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) بلوچستان کے زیر اہتمام مطالبات کے حق میں پورے بلوچستان کی طرح کوئٹہ میں بھی چیف ایگزیکٹو آفس کیسکو میں مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین سے یونین رہنماﺅں محمد رمضان اچکزئی، عبدالحئی، عبدالباقی لہڑی، محمد یارعلیزئی، ملک محمد آصف،منظورحسین اور سیدآغا محمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو میں قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کے ماتحت انتظامیہ میں میرٹ اور شفافیت کے برخلاف غیرقانونی تبادلوں کی وجہ سے افراتفری پھیلی ہوئی ہے کیسکو انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ سنیارٹی، پالیسی، کارکردگی،میرٹ اور ایک ونگ سے دوسرے ونگ میں افسروں کے تبادلے و تقرریاں کرکے کیسکو میں 30 لاکھ سے زائد بجلی کے غیرقانونی کنکشنز کو منقطع کرکے اور ان کنکشنز کو چلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانون کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام کرتی اور اسی طرح ریکوری اہداف کیلئے چیف ایگزیکٹو آفیسر ، آپریشن ڈائریکٹر، سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز اور ایس ڈی اوز کی سطح پر بڑے بڑے نادہندگان کی بجلی منقطع کرتے ہوئے بجلی چوری روک کر ریکوری اہداف حاصل کرتے ،کارکنوں کو کام کے دوران سیکورٹی فراہم کرتے، 7ہزارسے زائد خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی جاتیں، گاڑیوں کو پول میں رکھتے، سابقہ وزیر مملکت، بورڈ کے ممبران اور افسران کوذاتی استعمال کیلئے بڑی تعداد میں گاڑیاں دینے کے بجائے فیلڈ میں گاڑیاں فراہم کرکے کیسکو کی کارکردگی بڑھائی جاسکتی تھی لیکن سیاسی بنیادوں پر تعینات بورڈ آف ڈائریکٹرز اور قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کا کوئی وژن نہ ہونے کی وجہ سے کیسکو کے حالات روزبروز ابتر ہورہے ہیں، بجلی کا بل دینے والے قانونی صارفین مصائب کا شکار ہیں جبکہ بجلی چوری کرنے والے بااثر افراد کو قانون کی کوئی فکر نہیں اور وہ کھلے عام بجلی استعمال کرکے بجلی کے بل نہیں دیتے۔مقررین نے کہا کہ وزارت پاورڈویژن نے تمام پاور کمپنیوں کے ملازمین کو عیداعزازیہ دیا اور حکومت نے بجٹ کے دوران تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا تمام کمپنیوں کے ملازمین کو یہ سہولتیں مل چکی ہیں لیکن کیسکو میں ہم آئے روز آہ و پکار کرکے بھی اپنے جائز حق سے محروم اور اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر بجلی کے نظام کو چلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کیسکو کے مینار شہداءپر 132 شہیداہلکاروں کے نام کشیدہ ہیں جبکہ اس سے بڑی تعداد میں ملازمین معذوری کی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ کارکنوں کیلئے میرج گرانٹ، ان کے بچوں کیلئے وظائف، ان کی بروقت ترقیاں، اپ گریڈیشن، ان کی رہائش کیلئے فلیٹس اورکوارٹرز کی تعمیر،کام کے دوران حادثات سے محروم رکھنے کیلئے بکٹ گاڑیوں کی فراہمی، معیاری ٹی اینڈپی اور معیاری سامان خریدنے سمیت ان کے دیگر مسائل حل کرنے سے مطمئن مزدور ادارے کیلئے بہتر طور پر کام کرسکتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ یونین نے ادارے کی ترقی، صارفین کی بہتر خدمت ، کارکنوں کی فلاح وبہبود اور ان کی جان کی حفاظت کیلئے کئی ماہ پہلے ایجنڈا بھیجا ہے لیکن کیسکو انتظامیہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے کیسکو کے ٹینڈرز، ڈسپوزل، مٹیریل اورسامان کی چوری کے بڑے پیمانے پر خرد برد اور کرپشن کی کہانیاں زبان زدعام ہیں اور یونین نے ایسی تمام کرپشن کی تفصیل قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کو دی ہے لیکن کرپشن کو روکنے میں موجودہ قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر ناکام ہوگئے ہیں اس لئے یونین پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ کیسکو کیلئے ایماندار اور اہل چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کے احکامات جاری کرکے کیسکو کو مزید تباہی سے بچائیں۔اس موقع پر کیسکو انتظامیہ نے یونین سے بات چیت کیلئے 27اگست کی تاریخ مقرر کی ہے اوریقین دلایا ہے کہ کیسکو کے مختلف سرکلز، ڈویژنز اور سب ڈویژنز کے افسران کی میرٹ اور شفاف طریقے سے تعیناتیاں ہوںگی اسی طرح کیسکو انتظامیہ کی طرف سے یقین دلایا گیا کہ 23اگست کو کیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں ملازمین کے اعزازیے اور تنخواہوں و پینشن میں اضافے کی منظوری دی جائے گی جس پر یونین نے اپنے جاری مطالبات کے حق میں22سے 25 تاریخ کے مظاہروں کے پروگرام کو04ستمبر2023ءتک ملتوی کردیا ہے ۔مقررین نے مزدوروں پر زوردیا کہ وہ ادارے کی ترقی، صارفین کی بہتر خدمت اور کارکنوں کی فلاح وبہبود اور ان کی جان کی حفاظت کیلئے محنت و ایمانداری سے کام کریں تاکہ قومی ادارے کو ہر قسم کے نقصانات سے بچا کر صارفین کی بہتر خدمت کی جاسکے۔انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے پاورڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی صوبوں کو منتقلی کے اقدام کو ملکی یکجہتی اور سالمیت کیلئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بٹواروں سے فیڈرل حکومت صرف اسلام آباد تک محدودہوجائے گی اور صوبے بھی مملکت کی طرز پر کام کرنے کی فرمائیشیں کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ یونین پورے ملک کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد مزدوروں کی اجتماعی قوت اور جدوجہد سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی صوبوں کو منتقلی کے اقدام کو رکوائے گی کیونکہ صوبوں میں ڈسٹری بیوشن کمپنیاں جانے کے بعد ہر صوبے میں بجلی کے نرخ علیحدہ ہوں گے اور اس طرح حکومتِ بلوچستان کیسکو کو چلانے میں ناکام رہے گی اور سو، سو ارب روپے صوبے کے وسائل سے منہا کیے جاتے رہیں گے اس طرح صوبے میں عوام کی بدتر حالت مزید ابتر ہونے سے ان کا احساس محرومی مزید بڑھے گا۔مقررین نے کہا کہ جن حکمرانوں نے 1994ءسے اب تک آئی پی پیز کے ساتھ ڈالروں میں معاہدے جاری رکھے، آئی پی پیز کے پاور ہاﺅسز نہ چلنے پر بھی 60فیصد کیپسٹی چارجز ادا کیے جاتے رہے اوراسی طرح تیل کے نرخ بھی معاہدے کے وقت والے دے کر پاور سیکٹر کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا ان ذمہ داروں کو ایک اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن کی انکوائری کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ جن حکمرانوں نے آج بجلی کے نرخ کو 50روپے سے اوپر پہنچایا ان کا محاسبہ کیا جاسکے۔مقررین نے ملک میں سولر انرجی، ڈیمز،ونڈانرجی ،کوئلے اور دیگر سستے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ سستی بجلی کے ذریعے نئے کارخانے لگ سکیں، زراعت ، تجارت اور گھریلوصارفین ترقی کرسکیں،روزگار کے ذرائع پیدا ہوسکیں اور برآمدات میں اضافہ کرکے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا جاسکے۔مقررین نے کیسکو انتظامیہ سے کہا کہ اگر ان کے جائز مسائل حل نہیں ہوئے تو 04ستمبر سے08ستمبر تک دوبارہ پورے بلوچستان میں مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں