فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری غیرقانونی ،امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اقوام متحدہ
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباکاری غیرقانونی ہے اور امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹور وِینز لینڈ نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سکولوں کو مسمار کر رہا ہے، فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور ان کی جگہ آباد کاروں کو آباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آباد کاری غیر قانونی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان امن کے امکانات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔مسئلہ فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے موضوع پر سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس کے آغاز میں وینس لینڈ نے مقبوضہ علاقوں میں سکیورٹی کی تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں بات کی جس میں بہت سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینی علاقوں میں تشدد روز کا معمول بن چکا ہے اور یہ تشدد فلسطینیوں کے لئے مایوسی کی علامت ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوںدونوں فریقوں نے زمینی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے یکطرفہ اقدامات کے جاری رہنے کے بارے میں خبردار کیا، جس میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے ساتھ ساتھ غرب اردن کے زن A میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے، فلسطینیوں کی عسکری سرگرمیوں کی روک تھام اور آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں سیاسی افق کی طرف پیش رفت نے "ایک خطرناک اور غیر مستحکم خلا کو جنم دیا ہے اور اس خلا کو ہر طرف سے انتہا پسندوں نے پر کیا ہے۔ ٹور وینز لینڈ نے کہا کہ 25 جولائی سے 15 اگست کے درمیان 16 فلسطینی مارے گئے۔ان میں 5 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تشدد کی کارروائیوں میں 59 بچوں سمیت 137 فلسطینی زخمی ہوگئے۔


